ایرانی وزیر خارجہ کی فرانس پر تنقید، انسانی حقوق کے لیکچر بند کرنے کا مطالبہ

غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی حمایت اور ایران کے خلاف مبینہ جارحانہ کارروائیوں نے ان ممالک کے اخلاقی مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 13, 2026 · بام دنیا

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانس سمیت بعض مغربی ممالک کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے دوسروں کو نصیحت کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مغربی ممالک کے طرزِ عمل کو دوہرے معیار سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب یہ ممالک انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی پاسداری پر زور دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور ایران کے خلاف اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایسے رویوں سے ان ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق جو ممالک خود متنازع پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، انہیں دوسروں کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے بارے میں لیکچر دینے سے پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔

عباس عراقچی نے مغربی ممالک کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی حمایت اور ایران کے خلاف مبینہ جارحانہ کارروائیوں نے ان ممالک کے اخلاقی مؤقف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور مغربی ممالک کے درمیان غزہ کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور حالیہ فوجی کشیدگی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ایران مسلسل امریکا اور اس کے بعض اتحادیوں پر اسرائیل کی حمایت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھانے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جبکہ مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

فرانسیسی حکومت کی جانب سے عباس عراقچی کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔