امریکا کا آئی سی سی پر دباؤ بڑھ گیا،اتحادی ممالک کو علیحدگی کا مشورہ

آئی سی سی قومی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہے اور ریاستی حکومتوں اور قومی عدالتوں کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش کرتی ہے۔

August 13, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لاطینی امریکی ممالک پر مشتمل ’امریکاز کاؤنٹر کارٹیل کولیشن‘ کے رکن ممالک سے عدالت سے علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاناما میں خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آئی سی سی قومی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہے اور ریاستی حکومتوں اور قومی عدالتوں کے اختیارات میں مداخلت کی کوشش کرتی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کی رکنیت پر نظرثانی کریں اور اس سے علیحدگی اختیار کریں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے حالیہ عرصے میں آئی سی سی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ واشنگٹن عدالت کے دائرہ اختیار اور اس کے بعض اقدامات پر مسلسل تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بھی آئی سی سی کی کارروائی جاری ہے۔ نومبر 2024 میں عدالت نے نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات سے متعلق گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

امریکی وزیر دفاع کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی سی سی کے کردار، اس کے دائرہ اختیار اور عالمی سطح پر اس کی قانونی کارروائیوں پر امریکا اور بعض اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔