ایران کا امریکا پر شدید وار،خارجہ پالیسی کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا

جب کوئی شخص مسلسل اپنے ہی بیان کردہ جھوٹ پر یقین کرنے لگے تو ایک مرحلے پر اس کے لیے حقیقت اور غلط بیانی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے

August 15, 2026 · بام دنیا

ایران نے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن پر حقائق کو نظر انداز کرنے اور گمراہ کن بیانات پر انحصار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی پالیسی میں حقائق کے بجائے غلط بیانی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے روسی ادیب فیودور دوستوئیفسکی کے معروف ناول ’دی برادرز کرامازوف‘ میں بیان کیے گئے ایک تصور کا حوالہ بھی دیا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ جب کوئی شخص مسلسل اپنے ہی بیان کردہ جھوٹ پر یقین کرنے لگے تو ایک مرحلے پر اس کے لیے حقیقت اور غلط بیانی کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے اسی تصور کو امریکی طرزِ حکمرانی اور مشرقِ وسطیٰ سے متعلق واشنگٹن کی پالیسی پر لاگو کیا۔

دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں سے دباؤ میں نہیں آئے گا۔

آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے غریب آبادی نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ سے متعلق فیصلوں کا اختیار ایران کے پاس ہے اور اسے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایرانی قیادت ہی کرے گی۔

ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان خطے کی سلامتی، امریکی پالیسی اور آبنائے ہرمز کی اہمیت سمیت مختلف معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔