ترک صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کردیا

پاک، ترکیہ، سعودی معاہدے میں مصر بھی شامل ہوسکتا ہے، الجزیرہ کو انٹرویو

August 16, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں اور اسے دوبارہ کھولنا ترجیح ہونی چاہیے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان لفظی کشیدگی جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ ’ایران کی شکست‘ کے بعد جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ تاہم امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ کا یہ بیان مذاق کے طور پر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے بیان پر ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی ایران کی تھی، آج بھی ایران کی ہے اور مستقبل میں بھی ایران ہی کی رہے گی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز صرف ایران کے حکم پر ہی بند یا کھولی جا سکتی ہے۔

اردوغان نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورے کے دوران ان سے لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کے خاتمے کی ضرورت اور اس سلسلے میں واشنگٹن کے اہم کردار پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔

ترک صدر نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں مصر سمیت دیگر ممالک کے بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا امکان موجود ہے۔