ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان واپس لے لیا تھا:ایرانی اسپیکر

ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے انتباہ کے تقریباً 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بیان کا دوسرا حصہ ہٹا دیا۔

August 16, 2026 · بام دنیا

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جارحانہ سفارتکاری کے طور پر دیکھتا ہے۔

باقر قالیباف کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنا ایران کے مؤقف اور مزاحمتی محور کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

ایرانی اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام، مزاحمت اور آبنائے ہرمز سمیت مختلف معاملات کو مذاکرات کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق مذاکرات کے بعد امریکا نے اسی رات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی۔ قالیباف نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک بیان سامنے آنے پر ایرانی مذاکراتی ٹیم کو مؤقف اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی کہ امریکی صدر اپنا بیان واپس لیں۔

باقر قالیباف کے مطابق ایران کی جانب سے سخت ردعمل کے انتباہ کے تقریباً 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بیان کا دوسرا حصہ ہٹا دیا۔

ایرانی اسپیکر نے اسرائیل کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ لبنان کے علاقے داحیہ پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا گیا تھا۔ ان کے بقول پورے خطے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے سے گریز کیا۔