عمران خان کی ہسپتال منتقلی،توہینِ عدالت کی درخواست پر اعتراضات دور

اعتراض میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار نے فریقین پر عائد توہینِ عدالت کے الزامات کی فہرست درخواست کے ساتھ منسلک نہیں کی۔

August 25, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

 

اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں۔

رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر یہ اعتراض سامنے آیا تھا کہ توہینِ عدالت کے مبینہ مرتکب افراد کے خلاف الزامات کی تفصیلی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مطلوبہ فہرست رجسٹرار آفس میں جمع کرا دی، جس کے بعد اعتراض دور ہوگیا۔

اس سے قبل رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے درخواست واپس کردی تھی۔ اعتراض میں کہا گیا تھا کہ درخواست گزار نے فریقین پر عائد توہینِ عدالت کے الزامات کی فہرست درخواست کے ساتھ منسلک نہیں کی۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے سہولت مرکز میں ملاقات ہوئی اور اعتراض کی نشاندہی کے بعد اسے دور کرنے کے لیے ضروری دستاویز جمع کرا دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے درخواست کی جلد سماعت کی بھی استدعا کی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی صحت کو اہم قرار دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ درخواست عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ سمیت دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔