تائیوان میں کورونا کی نئی لہر سے ایک ہفتے میں 14 اموات نے کھلبلی مچا دی
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ
تائیوان میں کورونا کی نئی لہر سے ایک ہفتے میں 14 اموات نے کھلبلی مچا دی
تائیوان میں کورونا وائرس کی نئی لہر نے شدت اختیار کر لی ہے اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کووڈ نائنٹین کے باعث 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ بہتر مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حالیہ لہر کے دوران ایک ہفتے میں ہونے والی اموات کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے جس نے طبی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور عوام میں دوبارہ لاک ڈاؤن لگنے کے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔
تائیوان کے محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دو سے 8 اگست کے دوران کورونا سے متعلقہ امراض کے باعث اسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ اور ایمرجنسی شعبوں میں چوبیس ہزار چھ سو پینتالیس افراد نے رجوع کیا جو کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ستائیس اعشاریہ چھ فیصد زیادہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تائیوان میں گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر اب تک کورونا کے ت337 ایسے مقامی کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں شدید نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور ان میں سے بیالیس مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
طبی ماہرین اور سرکاری حکام کے مطابق موجودہ کورونا لہر کے اگست کے وسط سے آخر تک اپنے عروج پر پہنچنے کا قوی امکان ہے تاہم ہفتہ وار طبی معائنے کے کیسز کا تخمینہ 51 ہزار سے کم کر کے 27 ہزار کر دیا گیا ہے۔ نئے اعداد و شمار سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا کی شدید پیچیدگیوں کا شکار ہونے والے تہتر اعشاریہ نو فیصد مریضوں کی عمریں پینسٹھ سال یا اس سے زائد تھیں جبکہ 84 فیصد مریض پہلے سے ہی مختلف قسم کی دائمی بیماریوں میں مبتلا تھے۔
حکام نے انکشاف کیا ہے کہ شدید کیسز کا سامنا کرنے والے تقریباً نوے فیصد افراد نے کورونا ویکسین کی تازہ ترین موسمی خوراک ہرگز نہیں لگوائی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت متحرک ہو گیا ہے اور تائیوان میں اس وقت کورونا ویکسین کی تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار خوراکیں ذخیرہ میں موجود ہیں جن میں سے سینتیس ہزار خوراکیں نو ستمبر کو زائد المیعاد ہونے والی ہیں جنہیں اس مدت سے پہلے مقامی حکومتوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صرف تائیوان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ یورپ اور افریقا کے بعض علاقوں میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ایشیا اور مغرب کے چند اہم ممالک جن میں چین، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان شامل ہیں، وہاں بھی کورونا انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس سے عالمی سطح پر طبی اداروں کو ایک بار پھر الرٹ کر دیا گیا ہے۔