صحافی ارشدشریف بارے اپنی ٹوئٹ پر مریم نواز کی معذرت
میرے ٹوئٹ کا مقصد کسی پر طنز کرنا نہیں تھا ،میں ٹوئٹ ہٹا رہی ہوں اوراس سےکسی کو تکلیف پہنچی ہے تو معذرت خواہ ہوں
میرے ٹوئٹ کا مقصد کسی پر طنز کرنا نہیں تھا ،میں ٹوئٹ ہٹا رہی ہوں اوراس سےکسی کو تکلیف پہنچی ہے تو معذرت خواہ ہوں
شکوک و شبہات پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔
ہ بھیڑ بکریاں نہ بنیں اور موت کے خوف کے بت کی پوجا نہ کریں۔ظلم کا مقابلہ کریں۔وکلا کنونشن سے خطاب
کمیشن ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں کام کرے گا۔ عدالتی کمیشن کے سربراہ حقائق کے تعین کے لیے سول سوسائٹی،میڈیا سے بھی رکن لے سکیں گے۔
ارشد شریف کی میت رات ایک بجکر 5 منٹ پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر پہنچا دی جائے گی۔
سینئر صحافی کے قتل کا سن کر دکھ ہوا، مریم نواز نے کہا اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے ۔
کیا کوئی ارشد شریف کی فیملی کے پاس گیا ہے؟ کیا انہیں کوئی معاونت چاہئے؟,عدالت کا استفسار
کینیا میں پاکستان کی سفیر سیدہ ثقلین نے تمام مراحل کی نگرانی کی، وہ ارشد شریف کے جسد خاکی کو پاکستان روانہ کرنے تک ائیرپورٹ پر موجود رہیں
ارشد شریف کے کام سے دنیا واقف تھی،امریکا صحافیوں کو بلا خوف کام کرنے کے حق میں اور آزادی صحافت کا حامی ہے۔
کینیا میں قتل ہوئے سینئر پاکستانی صحافی ارشد شریف کی میت پاکستان لائی جا رہی ہے