حلال کمائی سے والدین کو حج کرانا خواجہ سرا بھائیوں کا مشن

0

اقبال اعوان
اس دور میں کہ جب انسان پر دولت کمانے کا جنون اس قدر حاوی ہوتا جا رہا ہے کہ حلال و حرام کا فرق بھی فراموش کر دیا گیا ہے، اسی دور میں دو خواجہ سرا بھائی ایسے بھی ہیں جن کی زندگی کا مشن نہ صرف والدین کو حج کرانا، بلکہ حلال کی کمائی سے اللہ اور اس کے رسولؐ کے دیار کا دیدار کرانا ہے۔ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کے رہائشی دائود عرف ریشماں اور اکبر عرف نیلی بھی دیگر خواجہ سرائوں کی طرح ناچنا گانا کر کے یا سڑکوں پر ہاتھ پھیلا کر پیسے کما سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے خودی برقرار رکھتے ہوئے محنت مشقت کو ترجیح دی۔ دونوں بھائی صبح سے شام تک بھیڑ بکریاں چراتے ہیں۔ اپنی فطری اپچ کے مطابق وہ دونوں اگرچہ زنانہ لباس پہننے ہی میں راحت محسوس کرتے ہیں، لیکن ہمت میں ہٹے کٹے مرد بھی ان کے آگے پانی بھریں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف خواجہ سرا گروئوں کی پیشکش ٹھکرا چکے ہیں کہ ان کی ٹولی میں شمولیت اختیار کی جائے۔ دائود عرف ریشماں اور اکبر عرف نیلی کو حالیہ دنوں بعض آزاد اور سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں نے یہ آفر بھی کی کہ وہ ناچ گا کر ان کی انتخابی مہم چلائیں۔ لیکن نانِ جویں کی لذت کے اسیر خواجہ سرا بھائیوں نے ہزاروں روپے یومیہ کی یہ پیشکشیں مسترد کر دیں۔
45 سالہ داؤد عرف ریشماں اور 32 سالہ اکبر عرف نیلی کا ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ چراوہے کا کام کرکے وہ فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خواہش خون پسینے کی کمائی سے والدین کو حج کرانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتے کہ ان کے ماں باپ کی عزت پر کوئی حرف آئے۔ ٹھٹھرتی سردیوں اور کڑکتی گرمیوں میں وہ صبح سے شام تک اسی لئے محنت مشقت کرتے ہیں کہ کوئی ان کے والدین کو یہ طعنہ نہ دے کہ ان کے دو بچے خواجہ سرا ہیں۔ ساحلی بستی ابراہیم حیدری کے اطراف خود رو جھاڑیوں اور گلی کوچوں کی کچرا کنڈیوں کے قریب صبح سے شام تک بھیڑ بکریاں چرانے والے خواجہ سرا بھائیوں کی علاقہ مکین کافی عزت کرتے ہیں اور اپنے لئے دعا کا بھی کہتے ہیں۔
داؤد عرف ریشماں نے بتایا کہ ان کا تعلق ابراہیم حیدری کے علاقے پاور ہائوس سے ہے۔ ان کے والد ماہی گیری کا کام کرتے تھے۔ تاہم بوڑھا ہونے کے سبب اب وہ کام کاج کے قابل نہیں ہیں۔ دائود اور اکبر کے پانچ بھائی اور ایک بہن بالکل نارمل ہیں۔ دائود کا کہنا تھا کہ والدہ بتاتی ہیں کہ جب وہ پیدا ہوا تو پتا چلا تھا کہ وہ نارمل بچہ یا بچی نہیں، بلکہ خواجہ سرا ہے۔ اس کے بعد ان کے گھر پر خواجہ سراؤں کے گرو آتے تھے کہ یہ بچہ انہیں دے دیا جائے، لیکن ان کی والدہ ہمیشہ منع کرتی تھیں اور اسے چھپا لیتی تھیں۔ بعد میں دوسرا بھائی اکبر پیدا ہوا۔ وہ بھی خواجہ سرا تھا۔ لیکن ان کے غریب والدین نے دونوں کو خواجہ سراؤں کے حوالے نہیں کیا اور پیار میں کمی نہیں آنے دی۔ ان دونوں کے بعد پانچ بھائی اور ایک بہن نارمل پیدا ہوئے۔ دائود نے بتایا کہ والدین نے انہیں نماز روزے کا پابند بنایا اور ناچ گانے یا دیگر خرافات سے دور رکھا۔ دونوں بھائی جوں جوں بڑے ہوتے گئے، ان کو علاقے کے لوگوں نے مذاق کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ نامناسب رویوں کے باوجود دونوں خاصیت یہ ہے کہ ان کی غیر موجود گی اکثر توجہ سے محروم رہتی ہے اور یہی ایسے تخمینے پیش کرنے والوں کی کامیابی کا راز ہے۔ آج کل کی صحافت کے ناقدین ان نامہ نگاروں سے اکثر برہم رہتے ہیں، جو امریکی حکومت کے مراسلوں کو بغیر تنقید وتبصرے کے دوبارہ لکھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ایسی ناقص صحافت کی مثال کے طور پر ’’فورٹ نائٹ‘‘ جریدے میں ’’نئی صنعتی پیش رفت‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی یہ رپورٹ پڑھئے، جو بتاتی ہے: ’’ویسٹنگ ہاؤس (ایک فولاد ساز ادارہ) کی طرف سے متعارف کردہ ایک نیا کولڈ ٹیمپر باتھ جو فولاد کی سختی کو تین گنا کردیتا ہے!‘‘
اب یہ تو واقعی بڑی پیش رفت معلوم ہوتی ہے! لیکن صرف اس وقت تک جب آپ اس بیان کی اصل حقیقت تک نہیں پہنچتے۔ تب آپ کو پتا لگتا ہے کہ یہ تو سراسر آپ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ کیا یہ نئی طرز کا باتھ (ڈبکی) واقعی فولاد کو اس سے تین گنا زیادہ سخت بنا دیتا ہے، جتنا وہ اس ڈبکی سے پہلے تھا؟ یا کیا یہ ایسا فولاد پیدا کرتا ہے، جو پہلے سے موجود فولادوں سے تین گنا زیادہ سخت ہو؟ لیکن محض ایک ڈبکی سے یہ کیسے ہوجاتا ہے؟
یوں لگتا ہے جیسے رپورٹر نے کچھ الفاظ ان کا مفہوم پوچھے بغیر آگے بڑھا دیئے ہیں اور آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ بھی کوئی تنقیدی جائزہ لیے انہیں پڑھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جائیں کہ آپ نے کوئی چیز سیکھی ہے۔ یہ بالکل ایسے طلبہ کی مثال ہے، جو بلیک بورڈ پر لکھی تحریر بغیر سمجھے کاپی میں اتار لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فولاد پر مذکورہ عمل اس زمانے میں دریافت ہوا تھا، جب کچ دھات یا خام لوہے کو فولاد کی شکل دینے کی کوششیں ابتدائی شکل میں تھیں اور اس عمل سے کچ دھات سے تین گنا زیادہ سخت فولاد نما دھات کی تیار ی شروع ہوئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ فولاد کو مضبوط تر بنانے کے لیے یہ طریقہ آج بھی الگ الگ صورتوں میں دنیا بھر میں رائج ہے۔ یعنی اس رپورٹر نے اپنی نالائقی سے ایک معمول کے طریقہ کار کو ایک سنسنی خیز خبر کے روپ میں پیش کر دیا تھا۔ (جاری ہے)

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More