تابعین کے ایمان افروز واقعات

0

بیعت سے انکار:
پھر زمانے نے اپنا ایک اور رخ بدلا …حضرت معاویہؓ اور ان کا بیٹا یزید اور مروان بن حکم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ بنو امیہ کی باگ ڈور عبد الملک بن مروان کے ہاتھ آئی۔ وہ خلیفۃ المسلمین کہلانے لگا۔ اہل شام نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور اہل حجاز و عراق نے حضرت ابن زبیر ؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
حضرت ابن زبیر ؓ نے حضرت محمد بن حنفیہؒ سے مطالبہ کیا کے وہ بھی اہل حجاز کی طرح ان کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ حضرت محمد بن حنفیہؒ پر بیعت کا مقصد واضح تھا، وہ خوب سمجھتے تھے کہ جس کی بیعت کی جائے، اس کے بیعت کرنے والے پر کیا حقوق لازم ہوتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس کے بچائو میں تلوار اٹھائی جائے اور اس کے مخالفین کو قتل کیا جائے۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابن زبیر ؓ سے صاف صاف کہہ دیا:
آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مجھے اس بیعت سے کوئی دلچسپی نہیں، میں امت مسلمہ کا ایک فرد ہوں، میں اس کے ہاتھ پر بیعت کروں گا، جس کی خلافت پر پوری قوم متفق ہو جائے۔ اس وقت نہ میں آپ کی بیعت کروں گا اور نہ عبد الملک بن مروان کی۔
حضرت ابن زبیرؓ حضرت محمد بن حنفیہؒ کو اپنی بیعت پر آمادہ کرنے کیلئے کبھی نرم رویہ اختیار کرتے اور کبھی سخت۔
تھوڑے ہی عرصے میں حضرت محمد بن حنفیہ ؒ کے ساتھ بہت سے لوگ ملتے گئے، دیکھتے ہی دیکھتے سات ہزار افراد نے ان کی قیادت کو تسلیم کرلیا اور انہوں نے اس بھڑکتی ہوئی فتنے کی آگ کا ایندھن بننے سے صاف انکار کردیا۔
شام روانگی
جب عبدالملک بن مروان کو حضرت ابن زبیر ؓ کی جانب سے حضرت محمد بن حنفیہؒ اور ان کے ساتھیوں پر کی جانے والی سختیوں اور تکالیف کا پتا چلا تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خط دے کر قاصد کو ان کی طرف روانہ کیا، جس میں نہایت ہی محبت اور شفقت کا انداز اپنایا گیا تھا۔ کبھی اس انداز سے اپنے بیٹوں کو بھی خط نہیں لکھا، اس میں یہ پیغام بھیجا کہ:
’’مجھے معلوم ہوا کہ ابن زبیر ؓ نے آپ کو سختیوں اور تکالیف میں ڈال رکھا ہے، سر زمین شام کے راستے آپ کیلئے کھلے ہیں۔ آپ تشریف لائیں، ہم آپ کے تمام ساتھیوں کو خوش آمدید کہیں گے، ہمارے پاس تشریف لایئے، ہم آپ کا پرجوش استقبال کریں گے۔ یہاں پہنچ کر آپ یوں محسوس کریں گے، جیسے آپ اپنے گھر میں ہوں، آپ ہمیں اپنے قدردانوں میں سے پائیں گے اور آپ کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا۔‘‘
جب یہ خط ملا تو حضرت محمد بن حنفیہ ؒ اپنے ساتھیوں کو لے کر سرزمین شام کی طرف روانہ ہوئے۔ جب سرحدی علاقے ابلہ کے مقام پر پہنچے تو وہاں پڑائو ڈالا۔ ابلہ کے رہنے والوں نے ان کی بہت قدر کی، دل کھول کر ان کی مہمان نوازی کی، ان کی عبادت، دنیا کی طرف سے بے رغبتی اور پاکیزہ زندگی سے متاثر ہوکر ان کی بہت عزت کی۔
حضرت محمد بن حنفیہؒ ابلہ کے رہنے والوں کو نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے، اسلامی زندگی قائم کرنے، ان کے آپس کے جھگڑوں کو ختم کرنے اور ان کے درمیان صلح کرانے میں مصروف رہے۔
اس علاقے میں کوئی ایسا نہ رہا جو کسی دوسرے پر ظلم کرتا ہو۔
جب یہ خبر عبدالملک بن مروان تک پہنچی تو اس پر بڑی بھاری گزری، اس نے اپنے خاص اور قریبی لوگوں سے مشورہ کیا۔
انہوں نے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ آپ محمد بن حنفیہؒ کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہ دیں، ورنہ وہ آپ کیلئے خطرہ بن جائیں گے۔ ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر انہوں نے یہاں رہنا ہے تو آپ کے ہاتھوں بیعت کریں، ورنہ جہاں سے آئے ہیں، وہیں واپس چلے جائیں۔(جاری ہے)
٭٭٭٭٭

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More