پمز نرسری آتشزدگی کی الیکٹریکل رپورٹ نے نئے سوالات کھڑے کر دیے
واقعہ کے بعد معائنے میں سات مشاہدات شامل
فائل فوٹو
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہاسپٹل (ایم سی ایچ) کی نرسری میںآتشزدگی کے بعد الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ نے اہم سوالات کے جواب دینے کے بجائے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نرسری کو علیحدہ ڈسٹری بیوشن بورڈ، مخصوص فیڈرز اور انفرادی سرکٹ بریکرز سے بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔ تمام بڑا برقی سامان بشمول انکیوبیٹرز اور ایئر کنڈیشننگ یونٹس اسی مخصوص بورڈ کے ذریعے چلائے جاتے تھے۔ حفاظتی آلات بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کمپنیوں کے تھے جو اوور لوڈ اور شارٹ سرکٹ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔
واقعے کے بعد کے معائنے میں متعلقہ الیکٹریکل اور اے سی سرکٹ بریکرز ٹرپ شدہ حالت میں پائے گئے۔
رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ حفاظتی آلات نے غیر معمولی برقی حالت کا پتہ چلنے پر متاثرہ سرکٹس منقطع کر کے آگ کو دیگر وارڈز تک پھیلنے سے روکنے میں مدد دی۔ نرسری کے اے سی یونٹس مخصوص سرکٹس پر تھے اور لائٹنگ یا ساکٹ کے مشترکہ سرکٹس استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ عمارت کی تیسری منزل (جہاں نرسری واقع ہے) واحد فعال منزل تھی، اس لیے مجموعی لوڈ محدود تھا اور سسٹم پر اوور لوڈ کی کوئی نشاندہی نہیں ملی۔
رپورٹ میں درج ذیل مشاہدات درج کیے گئے ہیں۔
-1 صرف نرسری کے لیے ایک مخصوص الیکٹریکل ڈسٹری بیوشن بورڈ (DB) نصب ہے۔ تمام بڑا برقی سامان، بشمول انکیوبیٹرز، ایئر کنڈیشننگ یونٹس اور دیگر برقی لوڈز، اسی مخصوص ڈسٹری بیوشن بورڈ کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔
2۔ انفرادی آؤٹ گوئنگ سرکٹس کو آزاد سرکٹ بریکرز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ نصب کردہ حفاظتی آلات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مینوفیکچررز کے ہیں، جن میں شنائیڈر الیکٹرک اور ٹیراساکی شامل ہیں، اور یہ اپنے متعلقہ سرکٹس کو اوور لوڈ اور شارٹ سرکٹ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
-3. واقعے کے بعد کے معائنے کے دوران، متعلقہ الیکٹریکل اور ایئر کنڈیشننگ سرکٹ بریکرز ٹرپ (بند) حالت میں پائے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حفاظتی آلات نے غیر معمولی برقی صورتحال کا پتہ چلنے پر متاثرہ سرکٹس کو منقطع کر کے اپنے ڈیزائن کے مطابق کام کیا۔ اس عمل نے آگ کو وارڈز میں مزید پھیلنے سے روک دیا۔
4۔ نرسری میں نصب ایئر کنڈیشننگ یونٹس کو محکمانہ طریقہ کار کے مطابق مخصوص برقی سرکٹس کے ذریعے جوڑا گیا تھا۔ ان ایئر کنڈیشننگ یونٹس کو بجلی فراہم کرنے کے لیے لائٹنگ یا ساکٹ کے کوئی مشترکہ سرکٹس استعمال نہیں کیے گئے تھے۔
5۔برقی تنصیبات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ نرسری کے الیکٹریکل سسٹم کو مخصوص فیڈرز اور ڈسٹری بیوشن کے انتظامات کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔
6۔ واقعے کے وقت، نصب شدہ کنیکٹڈ لوڈ اور عمارت کی آپریشنل حالت کی بنیاد پر الیکٹریکل ڈسٹری بیوشن سسٹم پر ضرورت سے زیادہ لوڈ (اوور لوڈنگ) کی نشاندہی کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
7۔ عمارت کی تیسری منزل، جہاں نرسری واقع ہے، نیو جائیکا ایم سی ایچ ایکسٹینشن بلڈنگ میں تمام سروسز کی حالیہ منتقلی کی وجہ سے واحد فعال منزل تھی، جس کے نتیجے میں عمارت کے ڈسٹری بیوشن سسٹم پر بجلی کی مجموعی طلب محدود تھی۔