خیبر پختونخوا اسمبلی میں میں مریم نواز کے بیان کیخلاف قرارداد منظور

دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے۔ قرارداد کا متن

September 11, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور: دہشتگردی کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے،کے پی اسمبلی میں مریم نواز کے بیان کیخلاف قرارداد منظور

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مریم نواز اور رانا ثناء اللہ کے بیانات کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی جس میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تقاضوں کی روشنی میں کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیر قانون آفتاب عالم نے قرارداد پیش کی، ایوان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ اور پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سےجوڑنے والے بیانات کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔

قرارداد میں خیبر پختونخوا کے خلاف مبینہ طور پر غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور الزام تراشی کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے منافی ہے۔

قرارداد کے متن کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے بیانات حقائق کے منافی اور سیاسی مفادات پر مبنی ہیں جبکہ ایسے بیانات خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی کسی ایک صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ریاست اور قوم کا مشترکہ چیلنج ہے، اس لیے قومی سلامتی کے اس حساس معاملے کو سیاسی الزام تراشی سے بالاتر رکھتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق زیر بحث لایا جانا چاہیے۔

قرارداد کے متن کے مطابق دہشت گردی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا اور ایک صوبے کو دوسرے صوبے کے خلاف کھڑا کرنا قومی یکجہتی اور پاکستان کی وفاقی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے، قرارداد میں قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف یکجہتی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔

قرارداد میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف آئین شکنی کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ۔ اسمبلی نے وفاقی حکومت سے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تقاضوں کی روشنی میں ضروری کارروائی کی جائے۔

خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان قربانیوں کو متنازع بنانا یا صوبے کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش قابل مذمت ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی نے اس امر پر زور دیا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے الزام تراشی کے بجائے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون، قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کو فروغ دیا جائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں، تمام صوبوں اور عوام کی مشترکہ جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے۔