قطر کا ایران اور خلیجی ممالک پر مشتمل علاقائی سیکیورٹی فریم ورک بنانے کا مطالبہ
اہم تجویز، امریکا اور ایران میں مذاکرات، دوحہ کا سفارتی رابطوں پر زور۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی خطاب کر رہے ہیں۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سائیڈ لائنز پر قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ایک جامع علاقائی سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دینے کی شدید ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک اور ایران کو اس مشترکہ فریم ورک میں شامل ہونا چاہیے تاکہ تمام فریقین مل کر سیکیورٹی کے امور کو حل کر سکیں۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کو خطے کے لیے ایک سمجھنا چاہیے، کیونکہ خطے میں سیکیورٹی اور استحکام سے متعلق پچھلے کئی مفروضے اس بحران کے دوران شدید آزمائش سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ جنگ کے اثرات محض مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کی لہریں دور دراز علاقوں تک محسوس کی گئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب عملی اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے اور خطے کے کسی بھی ملک کو ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں بننا چاہیے۔
دوسری جانب، دوحہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے گزشتہ تقریباً 2 ہفتوں سے باقاعدہ سفارتی رابطے اور مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق قطر کی ثالثی ٹیم تہران اور واشنگٹن کے مابین پل کا کردار ادا کر رہی ہے اور قطری حکام کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح یقین دہانیاں بھی ملی ہیں کہ واشنگٹن سنجیدگی کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ایک ایسے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے جو آبنائے ہرمز سمیت تمام اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کے تحفظ کو مکمل طور پر یقینی بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی ایک ریاست کی جانب سے کسی آبی گزرگاہ پر اپنی بالادستی قائم کر کے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی امن کے لیے ایک انتہائی خطرناک مثال بن سکتا ہے۔