حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں، سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعظم
پاکستان کا پانی روکنے یا رخ موڑنے کی کوشش اعلان جنگ سمجھی جائے گی
وزیراعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہیں اور ان کی حرمت و سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے اور پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا اور سورۃ الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’”اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ”‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ 24 کروڑ امن پسند پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس باوقار ایوان سے چوتھی بار خطاب کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ رواں برس فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔ اس نازک موڑ پر پاکستان نے سفارتی محاذ پر کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے جمع کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی رگیں ہیں اور انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے بلکہ یہ ہمیشہ کھلی رہنی چاہئیں۔ انہوں نے اس ضمن میں فیلڈ مارشل کی کوششوں اور دوست ممالک سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور چین کے کردار کو سراہا۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان کو بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تاہم ہماری بہادر افواج نے بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کو ہمیشہ کے لیے یاد رہنے والا سبق سکھایا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تباہ کن جنگ کو روکا۔
کشمیر کے دیرینہ تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔ آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور عالمی ادارے کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور رہے گا، اور پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے پانی روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ سمجھا جائے گا کیونکہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کے بچوں کو بھی دنیا کے دیگر بچوں کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 1 لاکھ جانیں قربان اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے، جبکہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جنہیں افغان حکام کو روکنا ہوگا۔