حکمران اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

4 اکتوبر کو مارچ ہوگا، صوبائی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، وفاقی پالیسیوں پر شدید تنقید۔

September 26, 2026 · اہم خبریں
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

پشاور (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مرکزی حکمران ہمارے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات کو طے نہیں ہونے دے رہے، تمام اداروں سے رجوع کرنے کے باوجود شنوائی نہیں ہوئی اس لیے مجبوراََ 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ کی کال دی گئی ہے۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی ذمہ داری جنید اکبر کی اور حکومتی ذمہ داری ان کے پاس ہے، تاہم وہ عمران خان کے حکم پر تحریک چلا رہے ہیں۔ 4 اکتوبر کے مارچ کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں اور واپسی اب حقیقی آزادی کے حصول کے بعد ہی ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی مسلح جتھہ نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں اور مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔

معاشی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی آمدنی 64 ارب روپے سے بڑھا کر 150 ارب روپے تک پہنچا دی گئی ہے اور اسے مزید 200 ارب روپے تک لے جایا جائے گا۔ اے ڈی پی اور عالمی بینک کے منصوبوں میں کسی قسم کی پسند ناپسند یا دباؤ کو مسترد کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حیات آباد چلڈرن ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والی سرکاری دستاویز کے مطابق 2012 میں منظور کیے جانے والے اس منصوبے کی لاگت 2.2 ارب روپے سے بڑھ کر 7.96 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے میں تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلی اور فنڈز کی کمی لاگت میں اضافے کا سبب بنی، جبکہ ہسپتال کا تعمیراتی کام 95 فیصد اور طبی آلات کی تنصیب کا کام 54 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ دستاویز کے مطابق ہسپتال کی تکمیل کے لیے مزید 1.796 ارب روپے درکار ہیں۔