ٹرمپ نے ایران کو مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا موجودہ پیشکش سے اتفاق نہیں کرتا۔

September 27, 2026 · اہم خبریں
ٹرمپ نے ایران کو مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

ٹرمپ نے ایران کو مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ حملے کی دھمکی دے دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کا عندیہ دے دیا ہے، جبکہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سات روز میں کھولنے کی تجویز بھی امریکی صدر نے مسترد کردی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکا موجودہ پیشکش سے اتفاق نہیں کرتا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کو پہلے ہی مکمل کنٹرول حاصل ہے اور وہاں سے تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے کا خواہاں ہے اور امریکا بھی کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، لیکن تہران کی موجودہ پیشکش قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں بتایا کہ تہران نے قطر کے ذریعے واشنگٹن تک سات روزہ منصوبہ پہنچایا ہے۔ ایرانی تجویز میں بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر کھولنے اور امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایرانی منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر جنگ بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

عراقچی کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد کے ابتدائی مراحل میں چار سے پانچ روز لگ سکتے ہیں، جس کے بعد چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے جبکہ ساتویں روز امریکا کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ممکن ہوگا۔

تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاعات کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ بمباری کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم یہ امریکی حکام سے منسوب رپورٹ ہے اور ٹرمپ نے ایران پر کسی نئے حملے کی باضابطہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔