خیبر پختونخوا پولیس وسائل سے محروم،صوبے میں گورنر راج کے تمام تقاضے پورے ہیں،امیر مقام
اہم پیش رفت، وفاقی وزیر امیر مقام نے دعویٰ کیا، امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اور سیاسی بحران کے حوالے سے ایک منظر
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بھی اہم قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان کا ہے اور موجودہ حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاق اور این ایف سی سے 1000 ارب روپے ملنے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کثیر وسائل کے باوجود خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں اور 25 مستقل اہلکار موجود ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک طرف صوبے میں 17 ہزار اہلکاروں کی شدید کمی ہے جبکہ دوسری طرف 13 ہزار 500 اہلکار سیاسی اشرافیہ کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت پولیس کو اپنے ماتحت کرکے آئی جی سے لے کر ڈی ایس پی تک من پسند تقرریاں اور تھانوں کی بولی لگوانا چاہتی ہے، ایسے غیرقانونی اقدامات سے فرنٹ لائن فورس کا مورال شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اقدامات سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دہشت گردوں کے ساتھ مل چکی ہے اور امن دشمن عناصر کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پی ٹی آئی قیادت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ گورنر نے کہا کہ صوبہ اس وقت شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے جنازے اٹھائے جا رہے ہیں، ایسے نازک حالات میں اسلام آباد پر چڑھائی کا صوبہ کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتا۔