پیٹرولیم ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ دوبارہ شروع کریں گے،حافظ نعیم الرحمان

اہم پریس کانفرنس، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ، وزیراعظم سے دوٹوک بات ہوگی۔

September 28, 2026 · اہم خبریں
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

 

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا دوٹوک مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو لانگ مارچ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ کراچی میں ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد لانگ مارچ میں عارضی وقفہ دیا گیا تھا لیکن جماعت اسلامی اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ حکومت ہمارے پرامن احتجاج کو ہرگز کمزوری نہ سمجھے، اگر وزیراعظم سے ملاقات ہوئی تو پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے معاملے پر دوٹوک بات ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی کشمکش کے باعث عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے، جبکہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لیوی عوام پر بھتہ اور ٹیکس کی طرح ہے، اور آئی ایم ایف پروگرام میں پیٹرول پر لیوی عائد کرنا کوئی لازمی شرط نہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت پی ایس ڈی پی میں کٹ لگا کر اور پیٹرولیم کی کھپت کو معتدل کر کے مطلوبہ بچت کے اہداف حاصل کر سکتی ہے، مگر حکمران طبقے نے ہمیشہ کی طرح بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے ملک بھر میں جاری سیاسی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ خواتین سیاسی قیدیوں کی گرفتاری کسی صورت قابل قبول نہیں ہے اور حکومت انہیں فوری طور پر رہا کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے بعد سے قید تمام سیاسی رہنماؤں کو بھی رہا کیا جانا چاہیے کیونکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، شاہ محمود قریشی اور محمود الرشید کو مزید قید میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کئی سیاسی قیدیوں کی صحت بھی خراب ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے اور سیاسی قیدیوں کے معاملے کو ایڈریس کر کے ملک کے حالات کو معمول پر لائے۔