حافظ نعیم سے منسوب بیان کی تردید، مطالبات پورے نہ ہوئے تو سپر مارچ ہوگا، لیاقت بلوچ
غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، وزیراعظم اپنے وعدے کی پاسداری کریں، لیاقت بلوچ کا دوٹوک مؤقف
لیاقت بلوچ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
جماعتِ اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے منسوب میڈیا رپورٹس کو حقائق کے منافی اور سراسر غلط قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے کہ انھوں نے پٹرولیم لیوی میں 35 سے 40 روپے کمی کا کوئی مطالبہ کیا تھا۔
ایک پریس کانفرنس اور جاری کردہ بیان میں لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت امیرِ جماعت سے منسوب لغو اور بے بنیاد باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ جماعتِ اسلامی پچھلے ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے سے پٹرولیم لیوی اور دیگر ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف بھرپور دھرنے اور مارچ کر رہی ہے، اور ہمارا بنیادی مقصد پٹرولیم لیوی سمیت دیگر ٹیکسز کے نام پر وصول کیے جانے والے 130 روپے سے زائد کے اضافی بوجھ اور بھتے کا مکمل خاتمہ ہے۔
رہنما جماعتِ اسلامی نے مزید واضح کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی کال پر حافظ نعیم الرحمٰن نے اس بھتے کے مکمل خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ واپس آ کر ملک اور عوام کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکیج کا باضابطہ اعلان کریں گے۔
لیاقت بلوچ نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ ہمیں پوری اُمید ہے کہ وزیرِ اعظم اپنا کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کریں گے، تاہم اگر وعدہ پورا نہ کیا گیا تو جماعتِ اسلامی ملتان سے اسلام آباد کی طرف ایک بڑا سپر مارچ کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یہ عوامی تحریک مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب عوام کو حقیقی ریلیف دلانے کے لیے شروع کی گئی ہے اور حقوق کی प्राप्ति تک یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔