برطانیہ کا غیر ملکی ورکرز اور پناہ گزینوں کیلیے قوانین نرم کرنے کا اعلان

شدید دباؤ کا سامنا، وزیر داخلہ کا نظرثانی کا عندیہ، نئی اسکیم بحال۔

September 29, 2026 · اہم خبریں
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن پالیسیوں میں نرمی کا عندیہ دیا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے امیگریشن پالیسیوں میں نرمی کا عندیہ دیا ہے۔

لندن سے موصولہ رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت نے لیبر پارٹی کے ارکان، کابینہ کے ساتھیوں اور ٹریڈ یونینز کے مسلسل دباؤ کے بعد غیر ملکی ورکرز کے لیے مستقل رہائش کے قوانین میں نرمی لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود نے تسلیم کیا ہے کہ ناقدین مجوزہ اصلاحات کے بعض حصوں کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں، جس کے بعد وہ اس بات پر آمادہ ہو گئی ہیں کہ تارکینِ وطن کی مستقل رہائش کے حوالے سے سخت منصوبوں پر نظرثانی کی جائے۔

برطانوی قوانین کے تحت مستقل رہائش کسی بھی شخص کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ ملک میں اپنی مرضی کی مدت تک قیام کرے، کام اور تعلیم حاصل کرے اور شرائط پر پورا اترنے پر سرکاری مراعات کے لیے درخواست دے۔ اس سے قبل تجویز پیش کی گئی تھی کہ زیادہ تر تارکینِ وطن کے لیے مستقل رہائش کی اہلیت کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کی جائے، جبکہ ہیلتھ اور سوشل کیئر ویزے پر آنے والے افراد کو 15 سال اور ایک سال سے زائد عرصہ فوائد لینے والوں کو 20 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا تھا۔ یونیسن سمیت متعدد تنظیموں نے ان مجوزہ تبدیلیوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اب حکومت نے لچک دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب، غیر قانونی طور پر چھوٹی کشتیوں کے خطرناک سفر کا متبادل فراہم کرنے کے لیے برطانیہ نے اپنی “UK Resettlement Scheme” بھی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق اس اسکیم کا مقصد جنگ اور ظلم و ستم کے شکار کمزور افراد کو محفوظ اور قانونی راستے فراہم کرنا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر سیکڑوں پناہ گزینوں کو برطانیہ لایا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت تقریباً 25 فیصد ریفرلز افغان خواتین و لڑکیوں اور فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے مخصوص ہوں گے، اور یہ اقدامات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔