پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک سکے کے دو رخ ہیں،اختیار ولی
پی ٹی آئی کے مارچ، جلسوں اور دھرنوں میں مبینہ طور پر خارجی عناصر کی شرکت کے شواہد موجود ہیں
پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک سکے کے دو رخ ہیں،اختیار ولی(فائل فوٹو)
اسلام آباد:وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مبینہ روابط کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
اپنے بیان میں اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنا عسکری ونگ جبکہ ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنا رکھا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اور دہشتگرد تنظیموں کے مبینہ روابط سے متعلق شواہد کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ایک ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کے حوالے سے بھی الزام عائد کیا کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر مساجد اور عوام پر حملوں سمیت خواتین اور بچوں پر تشدد میں ملوث رہے ہیں۔
اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دہشتگرد تنظیموں کی مبینہ مالی معاونت، سرپرستی اور سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ذاکر اللہ کی تصاویر پی ٹی آئی کے متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مارچ، جلسوں اور دھرنوں میں مبینہ طور پر خارجی عناصر کی شرکت کے شواہد موجود ہیں، جبکہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران حفاظتی اقدامات کی ایک وجہ دہشتگرد عناصر کا ممکنہ خطرہ بھی تھا۔
اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا حکومت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کالعدم تنظیموں کے نمائندوں کے طور پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان الزامات اور مبینہ سرگرمیوں سے متعلق اپنا واضح مؤقف سامنے لائیں۔
انہوں نے جنید اکبر سے بھی صوبے میں جاری معاملات اور سرگرمیوں کے حوالے سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما واضح کریں کہ وہ دہشتگردی کے واقعات اور مبینہ روابط کے معاملے پر کیا مؤقف رکھتے ہیں۔
اختیار ولی خان نے 9 مئی، اکتوبر اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’عشقِ بانی‘ کی آڑ میں اسلام آباد پر یلغار اور دیگر واقعات کا کیا جواز ہے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور شہادتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا صوبائی حکومت اور کابینہ کی ذمہ داری ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
اختیار ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ معاملہ اب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک تک محدود نہیں رہا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ سرگرمیوں اور سیاسی احتجاج کے حوالے سے اپنا مؤقف سامنے لائیں۔