خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ
سکیورٹی خدشات، ٹانک اور جنوبی وزیرستان میں پابندیاں، احکامات فوری لاگو ہوں گے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے باعث دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں امن و امان کی خراب صورت حال اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ اور ممکنہ خطرات کا سدباب کرنا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ضلع ٹانک میں ڈپٹی کمشنر جمشید خان کے احکامات پر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کا اطلاق 3 اکتوبر کی رات 9 بجے سے 5 اکتوبر کی رات 12 بجے تک ہوگا۔ اس دوران ڈبرہ تا ٹانک بائی پاس روٹ، رنوال، منجی خیل، بھگوال، ٹانک تا پیزو روٹ، کوڑ قلعہ، خرگئی، جنڈولہ، گومل زام ڈیم اور عزیز آباد کے مختلف راستوں پر آمدورفت اور نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔
اسی طرح جنوبی وزیرستان لوئر، جنوبی وزیرستان اپر اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقوں وانا اور اعظم ورسک میں یکم اکتوبر سے 10 اکتوبر تک لوڈر رکشوں، سنگل و ڈبل کیبن کارگو گاڑیوں، شہزور، مزدا، سوزوکی لوڈر اور ڈمپرز کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ دریں اثنا اپر وزیرستان میں بھی 3 سے 5 اکتوبر تک اسی نوعیت کی بھاری اور کارگو گاڑیوں کے داخلے پر قدغن لگائی گئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹانک روڈ، کلاچی، ہتھالہ، کوٹ اٹل اور گڑھ عبداللہ کے لنک روڈز پر پابندی کا اطلاق 4 سے 6 اکتوبر تک صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگا۔
سرکاری دستاویزات اور ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ احکامات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں، ہنگامی خدمات (ایمرجنسی سروسز) اور سکیورٹی فورسز کی خصوصی اجازت سے کی جانے والی ہنگامی نقل و حرکت کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف تعزیرات پاکستان (پاکستان پینل کوڈ) کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ضلعی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام میں سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور ضابطہ فوجداری کے ان احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔