یمن میں حوثیوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کا اعلان
امن کی تمام کوششیں ناکام، حوثیوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ، مسلح افواج کا پیش قدمی کا دعویٰ۔
یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی قوم سے خطاب کرتے ہوئے
یمن کی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ملک میں حوثیوں کے زیر قبضہ باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینے اور ریاستی اداروں کی عملداری بحال کرنے کے لیے ملک گیر فوجی آپریشن کے آغاز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں کے خلاف یہ عسکری کارروائی کشیدگی میں کمی لانے اور معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے تمام مواقع ختم ہونے کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ اور دستیاب رپورٹس کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا اور تیسرے بڑے شہر تعز میں شدید لڑائی اور فضائی حملوں کے بعد ملک میں ایک بار پھر بھرپور جنگ چھڑنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یمنی سرکاری افواج کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز تعز کے اطراف کئی محاذوں پر شدید جھڑپیں ہوئیں جبکہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے 3 دیہات پر قبضہ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حوثی گروپ کے زیر انتظام ٹی وی ذرائع کے مطابق صنعا اور تعز سمیت کم از کم 3 صوبوں پر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں، جن کا الزام سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد پر عائد کیا گیا ہے۔ دریں اثنا، یمنی حکومت کی حامی افواج کے ترجمان نے دارالحکومت صنعا میں اہم اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
عرب میڈیا کے حوالے سے یمنی مسلح افواج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی کارروائیوں اور حملوں میں 1,540 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے جانے والے 3 بیلسٹک میزائل کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
صدارتی کونسل کے سربراہ نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں مقیم شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری افواج جس شہر کو بھی حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرائیں گی، وہاں فوری طور پر بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے حوثی جنگجوؤں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی شخص ہتھیار ڈال دے گا، اسے محفوظ واپسی اور عام معافی کی مکمل ضمانت دی جائے گی۔