پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع ہوگی، مریم نواز کا اعلان

اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، جبکہ موٹر سائیکل چلانا نہ جاننے والے طلبہ کو مفت ڈرائیونگ تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

October 16, 2026 · قومی
پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع ہوگی، مریم نواز کا اعلان

پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع ہوگی، مریم نواز کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں طلبہ کے لیے ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع کی جائے گی، جن میں زیادہ حصہ طالبات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اسکیم کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے، جبکہ موٹر سائیکل چلانا نہ جاننے والے طلبہ کو مفت ڈرائیونگ تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

ساہیوال میں ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے بتایا کہ الیکٹرک بائیک اسکیم کے لیے اب تک 12 لاکھ سے زائد رجسٹریشنز اور 4 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو گلابی جبکہ طلبہ کو سیاہ رنگ کی بائیکس فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ضلعی پولیس اور ٹریفک حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ جن طلبہ کو موٹر سائیکل چلانا نہیں آتی، انہیں کم از کم دو روز کی مفت ڈرائیونگ تربیت دی جائے تاکہ وہ محفوظ انداز میں بائیکس استعمال کر سکیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد طلبہ، بالخصوص طالبات کو تعلیمی اداروں تک آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا اور انہیں خودمختار بنانا ہے۔ انہوں نے والدین اور بھائیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں پر اعتماد کریں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیں۔

تعلیمی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ اسکیموں کا مقصد قابل اور محنتی طلبہ کی مدد کرنا ہے تاکہ مالی مشکلات ان کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم مستحق طلبہ کو سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم میں میرٹ کو مقدم رکھا گیا اور طلبہ کے سیاسی پس منظر کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلبہ کو فضائی ٹکٹ اور ویزا پراسیسنگ فیس کی ادائیگی میں بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔

اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب کی تمام 36 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز میرٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے وقت صوبے کی بیشتر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں سربراہوں کی آسامیاں خالی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تقرریوں کے لیے سفارش کے بجائے میرٹ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

مریم نواز نے اساتذہ کی تربیت اور نصاب میں بہتری کو بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ اور بہتر نصاب ضروری ہیں۔

شہری ترقی کے منصوبوں پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقیاتی سہولتیں صرف لاہور تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ ساہیوال، اوکاڑہ سمیت پنجاب کے تمام شہروں میں سڑکوں، بازاروں اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم کے تحت ڈیڑھ سال میں 2 لاکھ 20 ہزار گھر تعمیر کیے گئے، جس پر اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کی جانب سے پنجاب کو ایوارڈ دیا گیا۔

صحت کے شعبے میں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کلینکس اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے لوگوں کو ان کی دہلیز کے قریب طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کلینکس آن ویلز کے ذریعے 3 کروڑ افراد کو ان کے گھروں کے قریب علاج کی سہولت دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ موبائل اسپتال اور ڈینٹل کلینکس مزدوروں کے کام کی جگہوں پر طبی سہولتیں فراہم کریں گے تاکہ انہیں علاج کے لیے کام چھوڑ کر نہ جانا پڑے۔ انہوں نے ’مریم کی دستک‘ سروس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے شہری مختلف سرکاری دستاویزات اور سرٹیفکیٹس گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔

مریم نواز کے مطابق ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کے تحت 2 لاکھ افراد صفائی کے کاموں میں مصروف ہیں، جبکہ بارشوں اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھی مختلف شہروں میں عملہ اور وسائل موجود ہیں۔