جے یو آئی کی پنجاب میں انٹری اور عوامی حمایت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی،مولانا فضل الرحمن

ہمارے خلاف بنایا جانے والا بیانیہ قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے،لاہور میں گفتگو

October 17, 2026 · اہم خبریں
جے یو آئی کی پنجاب میں انٹری اور عوامی حمایت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی،مولانا فضل الرحمن

جے یو آئی کی پنجاب میں انٹری اور عوامی حمایت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی،مولانا فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جے یو آئی کی پنجاب میں انٹری اور عوامی حمایت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ 1973 میں بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی ایمرجنسی کی بھی مخالفت کی تھی اور جب ہماری ہی جماعت کے شخص کو گورنر بنایا گیا تو میرے والد نے استعفیٰ دے دیا تھا، آج بھی گورنر راج کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جوانوں اور اداروں کی قربانیوں کا مذاق نہیں اڑایا، فیصلوں پر اصلاح کے لیے تنقید کرنا ہمارا حق ہے، فیصلے پنڈی میں ہوتے ہیں اور مسلط پارلیمنٹ پر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اصول پسند اور ریاست کے وفادار ہیں، میری جماعت کے 250 علما اور کارکن دہشت گردی کا شکار ہوئے، ہمارے خلاف بنایا جانے والا بیانیہ قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اتنی قربانیاں دینے کے بعد بھی اگر کوئی جبر کرتا ہے تو وہ قبول نہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے حوالے سے بریفنگ کے لیے پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، موجودہ صورتحال میں صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے، دہشت گردی کے اس ماحول میں جمعیت کے 250 کارکن شہید ہوئے ہیں اور ریاست ان قربانیوں کا مذاق نہ اڑائے۔ انہوں نے گفتگو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اصولی آدمی ہیں اور ماضی میں بھی اصولوں کی خاطر استعفے دیے ہیں۔