خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس سلسلے میں جن افسران کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ برسوں سے مختلف حکومتوں کی توجہ اور سرپرستی حاصل کرتے رہے ہیں اور اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مستقل رہائش (پی آر) کے حصول میں مبینہ سہولت کاری کرنے والا ایک شخص متعدد دولت مند بیوروکریٹس سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد فرار ہے، اس معاملے سے متعلق مختلف کہانیاں گردش کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے اپنے بیان میں متعلقہ افسران، مبینہ سہولت کار یا مالی لین دین کے حوالے سے تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔
وفاقی وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہے، جنہیں وطن نے عزت دی، جنہیں جائز یا ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کے مواقع میسر آئے اور جو سیاست دانوں کے منظورِ نظر رہے، کیا ان کی ملک کے ساتھ وابستگی کو ملازمت کے پورے دورانیے میں شک و شبہے سے بالاتر سمجھا جا سکتا ہے؟
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آیا ایسے افسران اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پاکستان کے ساتھ مستقل وابستگی رکھتے ہیں یا ان میں سے بعض مستقبل میں بیرونِ ملک منتقل ہونے کے منصوبوں کے تحت محض عبوری طور پر یہاں خدمات انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے سرکاری افسران کی بیرونِ ملک منتقلی، مستقل رہائش کے انتظامات، مالی وسائل اور سرکاری ذمہ داریوں کے حوالے سے مزید اہم سوالات کو نمایاں کیا ہے، ان معاملات کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ افسران کے اثاثوں، آمدن کے ذرائع، بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور قانونی تقاضوں کی پابندی کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔