کراچی میں ایک اوربچی اتائی ڈاکٹر کی بھینٹ چڑھ گئی

کراچی میں ایک اوربچی اتائی ڈاکٹر کی  بھینٹ چڑھ گئی ۔

پولیس کے مطابق گلشن اقبال 13 ڈی میں بچی صبا کو رات میں سانس کی تکلیف پر والد کلینک لے کر گیا جہاں کلینک پر خود کو ڈاکٹر بتانے والے شخص نے انجیکشن لگایا تو بچی فوری انتقال کر گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رات گئے چھاپے میں اتائی کو گلشن اقبال سے گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ جناح اسپتال میں لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ذکیہ نے بچی کا پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

پولیس کے مطابق رات سے بچی کی لاش جناح اسپتال کے مردہ خانے میں موجود ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص عدنان کو ڈاکٹریٹ ڈگری کا بھی نہیں معلوم، پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب بچی صبا کے والد ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ بچی کو کھانسی اور نزلہ تھا جس کی وجہ سے اسے کلینک لےکر گیا، ڈاکٹر نے بچی کو چیک کر کے انجیکشن اور دوائی لکھ کردی اور ڈاکٹر نے بچی کو انجیکشن لگایا تو اس کے منہ سے جھاگ آگیا۔

ظفر اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر عدنان نے بچی کی طبیعت دیکھ کر کہا کہ اسے دوسرے اسپتال لے جاؤ۔

یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے دارالصحت اسپتال میں غلط انجیکشن لگنے سے 9 ماہ کی نشویٰ جاں بحق ہوگئی تھی۔

تبصرے بند ہیں.