ملک بھرمیں پٹرول کی قلت۔اوگرا کا نوٹس،3 کمپنیوں کو شو کاز نوٹس

پاکستان میں تیل اور گیس کی ترسیل کے ذمے دار ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) نے ملک میں پیٹرول کی قلت پیدا ہونے پر3 کمپنیوں کو شو کاز نوٹس جاری کر دیا ۔ اوگرا نے کمپنیوں سے پٹرول کی قلت پر 24 گھنٹوں میں وضاحت طلب کی ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول کا بحران تیسرے روز بھی جاری ہے، شہری پٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

کراچی سمیت ملک بھرمیں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت پیداہوگئی ہے۔ کراچی میں پیٹرول پمپس کی مجموعی تعداد 3 سوکےلگ بھگ ہے جنمیں سے50 فیصد پمپس پرفیول ٹینک خشک ہوگئے ہیں۔

آئل کمپنیوں کی جانب سے ایندھن کےمناسب کوٹےکی خریداری نہیں کی جارہی۔ جس سےبحران پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب پی ایس اوکا کہنا ہےکہ کمپنی کے پاس  پٹرولیم پروڈکٹس  کے تسلی بخش ذخائر موجود ہیں۔

سندھ کے علاقے شہداد کوٹ اور مٹیاری میں بھی بیشتر فلنگ اسٹیشنز پر پٹرول دستیاب نہیں، شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آئل کمپنیوں نےقیمت میں کمی پرخریداری ترک کردی جس سےایندھن کا بحران پیدا ہوا۔

جھنگ، سیالکوٹ، شور کوٹ، مردان، اور مٹیاری سمیت ملک کے کئی شہروں میں تیسرے روز بھی پٹرول کی قلت کا سامنا ہے۔ کئی فلنگ اسٹیشنز پر پٹرول ایک سو بیس سے لیکر ایک سو  پچپن روپے فی لیٹر تک فروخت ہورہا ہے۔ جہاں پٹرول  کی ترسیل بحال ہوئی  ہے وہاں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔

 شہرکے بیشتر فلنگ اسٹیشنز پر پٹرول غائب ہے جہاں دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ کئی جگہوں پر پیٹرول ایک سو بیس روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ سیالکوٹ، شاہ پور، شورکوٹ، ظاہر پیراورعلی پور میں بھی پٹرول کی قلت کا سامنا ہے۔

 نوشہرہ میں بھی پٹرول غائب ہے، پی ایس او پمپس پر پٹرول ایک سو پچپن روپے تک فروخت ہورہا ہے جب کہ  مردان میں ایک پمپ کے علاوہ تمام فلنگ اسٹیشنز بند ہیں۔ 

پشاور کے شہری بھی شہر کے مختلف پیٹرول پمپس پر اسکے حصول کے لئے خوار ہو رہے ہیں۔ کوئٹہ میں بھی پیٹرول دستیاب نہیں جس کے باعث عوام کا مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کوئٹہ کے بیشر پیٹرول پمپ مالکان نے قیمتوں میں کمی ہوتے ہی پمپس بندکر دئیے۔ پیٹرول پمپس پر آنے والے شہری مایوسی کے ساتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔ اکثر پیٹرول پمپس نے فیول بلیک میں بیچنا شروع کردیا اور فی لیٹر پیٹرول 145 روپے کے بینر آوایزاں کر دیے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.