جناح اسپتال : نومولود بچی کے اغوا پر لیڈی سیکورٹی انچارج گرفتار

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)جناح اسپتال گائنی وارڈ سے نومولودبچی کے اغواکا مقدمہ گائنی وارڈ اسٹاف کے خلاف درج کرلیا گیا، بچی بازیاب نا ہوسکی ،وارڈ سیکیورٹی لیڈی انچارج کو گرفتار کرلیا گیا ، نرس اور نامعلوم اسٹاف کی تلاش جاری ہے۔تفصیلات کے مطابق صدرپولیس نے جناح اسپتال کے گائنی وارڈ سے اغوا ہونے والی ایک دن کی نومولود بچی دختر محمد اسماعیل کے اغواء کا مقدمہ الزام نمبر 151/2023 جرم دفعہ 363/34 گائنی وارڈ نمبر 8 کی لیڈی سیکیورٹی انچارج رضوانہ ،اسٹاف نرس نورین اورایک اسٹاف نامعلوم کے خلاف درج کرکے سیکیورٹی انچارج رضوانہ کو گرفتارکرلیا۔ اسٹاف نرس نورین اورایک نامعلوم اسٹاف کی تلاش جاری ہے،جبکہ پولیس مغویہ نومولود بچی کو تاحال بازیاب نہیں کرسک۔
بچی کو اغوا ہوئے تین روز گزر گئے،واقعے کے بعد سے بچی کی ماں سکینہ بی بی کی حالت غیر ہے۔ مقدمہ مدعی محمد اسماعیل کے مطابق وہ بلدیہ یوسف گوٹھ سعید آباد کا رہائشی اور سائٹ ایریا میں ملازمت کرتا ہے،بیوی کی ڈیلوری کے حوالے سے اس کی اہلیہ سکینہ بی بی ،میری بھابھی ماہین بی بی اور ایک رشتے دارخاتون کے ہمراہ 8 جون کو دن گیارہ بجے جناح اسپتال آئے تھے،جہاں 9 جون کودن 10 بجے بچی کی ولادت ہوئی،تاہم رات 10 بجے کے قریب میں گھر چلا گیا،اسپتال میں میری ساس سلمی بی بی اور بھابھی ماہین موجود تھیں،رات ساڑے بارہ بجے بچی کو چیک اپ کیلئے لے جایا گیا۔
 بعدازاں اسی رات ڈھائی سے تین بجے کے قریب میرے بھائی محمد ابراہیم بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی جس پرمیں اسپتال پہنچا،جبکہ بچی کے لاپتہ ہوجانے کے بعد وارڈ کے اسٹاف نے ہم سے کوئی تعاون نہیں کیا،بعدازاں پولیس نے گزشتہ 10 جون کوبچی کے اغوا کا مقدمہ درج کیا،پولیس کے مطابق بچی کے اغوا کا واقع جناح اسپتال کے گائنی وارڈ نمبر8 پہلی منزل کے بیڈ نمبر 8 سے گزشتہ 9اور10 جون کی شب ڈھائی بجے کے قریب رونما ہوا،اس حوالے سے پولیس جھان بین کررہی ہے مگر بچی تاحال بازیاب نہیں ہوسکی۔ مقدمہ مدعی کا کہنا ہے کہ میری بچی کا اغواءوارڈنمبر8کے اسٹاف کے تعاون سے ہوا ہے اوراسپتال انتظامیہ بھی اس سارے معاملے تعاون نہیں کررہی تھی۔