جنوری میں امریکی و ایرانی حکام کی ملاقات کا انکشاف

 

اسلام آباد(اُمت نیوز)مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا گراف نیچے لانے کی خاطر امریکا اور ایران میں باضابطہ رابطے ممکن بنانے کے لیے اردن میں دونوں ملکوں کے حکام کی ملاقات ہوئی ہے۔

ایک امریکی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ یہ ملاقات جنوری میں ہوئی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے سینیر حکام نے شرکت کی۔

اس ملاقات میں ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیرخارجہ علی باقری نے اور امریکی وفد کی قیادت مشرق وسطیٰ سے متعلق امور میں امریکی صدر کے مشیر بریٹ میک نے کی۔

امریکا اور ایران کے سینیر حکام نے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کے حوالے سے بات چیت کی۔ حوثی ملیشیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ امریکی حکام نے حوثی ملیشیا کے حملوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہ حملے فوری رکوانے پر زور دیا۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے امریکا پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کرائے۔ ایرانی وفد کا موقف تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی بمباری سے ایک طرف غزہ کے باشندوں کے لیے جینا عذاب ہوچکا ہے اور دوسری طرف خطے میں کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔