تاجروں نے بڑی تعداد میں چائنا سے مال منگوا کر اسٹاک کرلیا، فائل فوٹو
 تاجروں نے بڑی تعداد میں چائنا سے مال منگوا کر اسٹاک کرلیا، فائل فوٹو

بچوں کی موبائل فون میں دلچسپی،کھلونوں کا بزنس ٹھپ

اقبال اعوان:
کراچی میں بچوں کے کھلونوں کا کاروبار ٹھپ ہونے لگا ہے۔ بچوں کا زیادہ رجحان موبائل فون گیمز کی جانب ہے۔ البتہ عید کے حوالے سے پلاسٹک کی کھلونا رائفلیں اور پستول کا کاروبار اب بھی اچھا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی تاجروں نے بڑی مالیت کے کھلونے پستول اور رائفلیں گوداموں میں جمع کر لیں۔ پابندی کے باوجود اس کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے۔

دھاتی، پلاسٹک، کپڑوں، شیشے، کاغذ سمیت دیگر اشیا کے کھلونے اب فروخت کے لیے رکھے نظر ضرور آتے ہیں، تاہم کاروبار چوپٹ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے جوڑیا بازار میں قدیم کھلونوں کی مارکیٹ واقع ہے جس میں 500 سے زائد دکانیں ہیں اور درجنوں ٹھیلے پتھارے لگتے ہیں۔ اسی طرح شہر میں کھلونوں کی دکانوں یا گفٹ شاپ سمیت ٹھیلے پتھاروں پر کھلونے فروخت ہوتے ہیں۔

موبائل فون نے اس کاروبار کو کافی حد تک ختم کر دیا۔ جبکہ خراب معاشی حالات اور بڑھتی مہنگائی نے شہریوں کو کھلونے کے اضافے خرچے پر خیرآباد کرنے پر مجبور کر دیا۔ اب بچے کھلونوں کی ڈیمانڈ نہیں کرتے ہیں اور خریداری کا رجحان کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ دکانداروں اور ٹھیلے پتھارے والوں نے دیگر اشیا ساتھ فروخت کرنا شروع کر دیں کہ اخراجات اور کرائے پورے کر سکیں۔

دکاندار رحیم داد کا کہنا تھا کہ، چند سال سے کاروبار دن بدن ختم ہوتا جارہا ہے۔ اب سال میں عیدالفطر سے قبل کھلونا ہتھیار آتے ہیں اور بچے پلاسٹک ہتھیار خریدتے ہیں۔ ہر سال درجنوں بچے اور بڑے ان ہتھیاروں کے چھرے آنکھوں میں لگنے پر متاثر ہوتے ہیں اور پھر ان پر پابندی لگ جاتی ہے۔ یہ کاروبار رسکی ہوتا ہے، تاجر بھاری مالیت کے کھلونا ہتھیار، مقامی اور چائنا کے منگوا کر اسٹاک کر لیتے ہیں اور عید سیزن کماتے ہیں۔

دکاندار محمد احمد کا کہنا تھا کہ، پہلے بچوں کو گفٹ میں کھلونے دیتے تھے۔ مختلف اقسام کے پلاسٹک، کپڑوں، دھاتی، کاغذ کے کھلونے فروخت ہوتے تھے۔ پھر لنڈے کے مال کے ساتھ ساتھ کنٹینرز میں غیر ملکی کپڑوں، لکڑی، شیشوں، پلاسٹک، کاغذ کے کھلونے مارکیٹ میں آنے لگے۔ پشتون بھائی زیادہ تر کپڑے اور دیگر میٹریل کے غیر ملکی کھلونے بھی فروخت کررہے ہیں۔ تاہم سستے داموں ملنے کے باوجود کھلونے کی فروخت کم ہوتی جارہی ہے۔

دکاندار رحمت علی کا کہنا ہے کہ، ویلنٹائن ڈے پر گڈے اور دیگر کھلونے گفٹ میں دیے جاتے ہیں۔ تاہم اب موبائل فون سب سے بڑا گفٹ مانا جارہا ہے۔ ہر عمر کے بچے، مرد، خواتین، بچیاں بھی موبائل فون مانگتی ہیں۔ بچیاں، لڑکیاں مختلف اقسام کی کھلونا گڑیاں اب خریدنے سے انکار کرتی ہیں۔ چابی، بیٹری سے چلنے والے کھلونا گاڑیاں بھی اب کم خریدی جاتی ہیں۔ کراچی میں کھلونے کی دکانیں سجی ہیں۔ تاہم خریدار نہیں ہیں۔ صدر ایمپریس مارکیٹ میں سڑک کنارے پتھارے لگا کر کھلونے سستے داموں فروخت کیے جارہے ہیں۔

ان ٹھیلے والوں کا کہنا ہے کہ بچے صرف کھلونا ہتھیار، پستول، رائفل یا جنگی طرز کے کھلونے فوجی گاڑیاں، ٹینک، جہاز، ہیلی کاپٹر خریدتے ہیں۔ اب ڈرون طرز کا اڑنے والا کھلونا ہیلی کاپٹر بھی ریموٹ سمیت خریدا جاتا ہے۔ شہر میں مضافاتی، کچی، ساحلی آبادیوں میں اب دکانوں پر موجود کھلونے نہیں خریدے جاتے ہیں اور غریب طبقہ تو مکمل کھلونوں سے دور ہے، اس کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول ضروری ہے۔

متوسط طبقے والے اگر گفٹ دیتے ہیں تو موبائل فون دے کر کام چلاتے ہیں۔ اب گلی کوچوں میں بچوں کے کھلونے والے آوازیں دے کر کاروبار نہیں کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کاروبار سے وابستہ لوگ دوسرا کاروبار کرنے پر مجبور ہیں۔