ایران کا آبنائے ہرمز میں 2 غیر ملکی بحری جہازوں کو روکنے کا دعویٰ
دونوں بحری جہاز بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈے تلے سفر کر رہے تھے۔
فوٹو سوشل میڈیا
تہران / واشنگٹن : خلیج فارس میں کشیدگی کی نئی لہر اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی فورسز نے تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار بحری جہازوں (ٹانکرز) کو وارننگ دے کر واپس موڑ دیا۔
ایران کا موقف ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق یہ دونوں بحری جہاز بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈے تلے سفر کر رہے تھے۔ ایرانی حکام نے ان جہازوں کی نقل و حرکت کو “غیر مجاز” قرار دیتے ہوئے انہیں وارننگ جاری کی، جس کے بعد جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر رہا ہے۔ تہران کی جانب سے سمندری مسافروں اور تجارتی کمپنیوں کو واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ توانائی کی اس اہم ترین عالمی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔