ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں، پاکستان کی بہت عزت کرتا ہوں، ٹرمپ
اٹلی اور اسپین سے خوش نہیں ہوں، جنگ ختم ہوگی تو تیل، گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں ہوں، پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتا ہوں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ہم سے ڈیل کرنا چاہتا ہے، ایران کی قیادت تقسیم ہوچکی ہے، میں نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔
امریکی صدر نے ایرانی تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ انھیں صحیح ڈیل کرنی ہوگی۔ اس وقت میں اس سے مطمئن نہیں ہوں جو وہ پیش کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو دنیا کوآج زیادہ خطرہ ہوتا، ایران کی قیادت میں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، ایران کی موجودہ قیادت کنفیوزڈ ہے، ایران کی نیوی، فضائیہ سب کچھ تباہ ہوچکا ہے، ایرانیوں کو یہ بھی آئیڈیا نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی ، ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی، ایران سے مذاکرات جاری ہیں، یقین نہیں کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں، انہیں تباہ کر دیں یا معاہدہ کر لیں، ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں، ایران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے جن سے میں اتفاق نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی اور اسپین سے خوش نہیں ہوں، جنگ ختم ہوگی تو تیل، گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی، ممکنہ طور پر فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتا ہوں۔
صدر کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون پر بھی بات کر رہے ہیں، اُنھوں (ایران) نے کچھ قدم آگے بڑھائے ہیں، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔