سرکاری فورسز پر حملوں میں ملوث شخص کو ایران میں پھانسی
مجرم کا تعلق انصارالفرقان سے تھا۔ آج صبح سزائے موت دے دی گئی
ایرانی عدلیہ کے مطابق انصار الفرقان کی رکنیت کے جرم پر عبد الجلیل شہ بخش نامی شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نے بتایا ہے کہ پھانسی کی سزا آج (منگل) کی صبح دی گئی۔
عدلیہ کے بیان کے مطابق عبد الجلیل شہ بخش کو ’ملک کے مشرق میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران‘ گرفتار کیا گیا تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انصار الفرقان ایک مسلح سنی گروہ ہے جس نے گذشتہ برسوں کے دوران ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں سرکاری فورسز پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی حکومت اس گروہ کو ’باغی اور دہشت گرد‘ قرار دیتی ہے۔
عبد الجلیل شہ بخش کی گرفتاری کے بعد ان پر اس گروہ کی رکنیت کا الزام عائد کیا گیا اور عدلیہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ چھ سال قبل فوجی تربیت حاصل کرنے کے لیے ایک ہمسایہ ملک گئے تھے۔
اس کے برعکس بعض افراد نے انھیں بلوچ سیاسی قیدی قرار دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملوں کے بعد ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے پھانسیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایران کے لیے انسانی حقوق کے رپورٹر کے مطابق سزائے موت کو ’جنگی حالات میں سیاسی مخالفت کو دبانے کے ایک آلے‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے