امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں“بہت سے پیچیدہ معاملات”رکاوٹ بن گئے

تہران نے جنگ کے خدشات پر سیکیورٹی ضمانتیں اولین ترجیح قرار دے دیں

May 12, 2026 · بام دنیا

تہران کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے، تاہم کسی بھی مسلط کردہ شرائط یا دباؤ کے تحت بات چیت قبول نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو ایران مقابلے کیلئے تیار ہے۔

حال ہی میں ایرانی فوج کے سربراہ نے بھی جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں “سرپرائزز” دینے، نئے ہتھیاروں، نئی حکمت عملی اور بیرون ملک نئے محاذوں کا ذکر کیا تھا۔

یہ بھی معلوم ہے کہ تہران میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سفارتی قربت یا روابط کے حوالے سے شدید بداعتمادی پائی جاتی ہے۔

ایران کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ دوبارہ جنگ نہ ہو۔

تہران چاہتا ہے کہ اسے ایسی مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں ملیں تاکہ وہ دوبارہ اس صورتحال کا شکار نہ ہو جہاں مختصر مدت کے امن کے بعد ایک اور تصادم شروع ہو جائے۔

ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی تجاویز کا موازنہ کیا جائے تو دونوں کے درمیان اب بھی کئی پیچیدہ اور حل طلب معاملات موجود ہیں۔