ایورسٹ پر ایک اور ہلاکت۔رواں سیزن میں اموات پانچ

خربدار راستوں اور موسمی رکاوٹوں کے باوجود کوہ پیمائی جاری، خطرات میں اضافہ

May 12, 2026 · بام دنیا

کوہ پیمائی کی ایک ٹیم کے ارکان خومبو آئس فال میں پیدل سفر کر رہے ہیں، جبکہ ماؤنٹ ایورسٹ کے کیمپ ون تک جانے والا راستہ ابھی تک اس سیزن کے لیے نہیں کھولا گیا۔ یہ مناظر نیپال کے ضلع سولوکھمبو، جسے ایورسٹ ریجن بھی کہا جاتا ہے، میں 22 اپریل 2026 کو دیکھے گئے۔ رائٹرز / پورنیما شریستھا

 

نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر ایک اور غیر ملکی کوہ پیما کی ہلاکت کے بعد رواں سیزن میں ہمالیائی کوہ پیماؤں کی مجموعی اموات کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق کوہ پیمائی کے خطرات کے باوجود مہم جوئی جاری ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق 21 سالہ نیپالی شيرپا گائیڈ پھورا گیالجن شیرپا برف میں دراڑ (کریواس) میں گر کر ایورسٹ پر ہلاک ہو گیا۔ یہ گزشتہ دو ہفتوں میں ایورسٹ پر تیسری ہلاکت ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ کیمپ تھری کے قریب پیش آیا جو تقریباً 7,200 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ نیپال کی محکمہ سیاحت کی اہلکار نشا تھاپا راوت نے بتایا کہ موسم بہار کے اس سیزن میں اب تک پانچ کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی دوران نیپالی کوہ پیما وجے گھمائرے بشواکرمہ 35 سال کی عمر میں ہم آہنگی (اکلائمٹائزیشن) کی مشق کے دوران خومبو آئس فال میں ہلاک ہوا، جبکہ 51 سالہ لاکپا ڈینڈی شیرپا بیس کیمپ جاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔

گزشتہ ہفتے امریکہ سے تعلق رکھنے والی 53 سالہ کوہ پیما جوہانسن شیلے ماکالو پہاڑ پر ہلاک ہوئیں، جبکہ چیک جمہوریہ کے ڈیوڈ رونبینیک بھی قریبی ماکالو II پر جان سے گئے۔

حکام نے ان دونوں اموات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

نیپال کے محکمہ سیاحت کے مطابق اس سیزن میں ایورسٹ کے لیے 492 اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں، جن کی فیس 15 ہزار ڈالر فی کس ہے۔ گزشتہ سال کے 478 اجازت ناموں کے مقابلے میں یہ تعداد زیادہ ہے۔

نیپال میں 400 سے زائد پہاڑ کوہ پیمائی کے لیے کھولے گئے ہیں، تاہم ایورسٹ سمیت تقریباً دو درجن پہاڑ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ حکام کے مطابق خطے میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث سفری اور سیاحتی مشکلات کے باوجود کوہ پیماؤں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اپریل میں برف کے بڑے ٹکڑے گرنے کے باعث ایورسٹ کی سمٹ روٹ دو ہفتے تک بند رہا، جس کے باعث سینکڑوں کوہ پیما بیس کیمپ میں پھنس گئے تھے۔