لبنان پر حملے:صدر ٹرمپ کی نیتن یاہو سے لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی، امریکی سفیر کا انکشاف

ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان شدید اختلافات ہیں،ر لبنانی پارلیمنٹ اسپیکر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو

فائل فوٹو

ٹرمپ اور نیتن یاہو

بیروت: لبنان میں متعین امریکی سفیر مشیل عیسیٰ نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں اور پیدا ہونے والی کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔

امریکی سفیر مشیل عیسیٰ نے ان خیالات کا اظہار لبنان کے پارلیمنٹ اسپیکر نبیہ بری سے ایک اہم ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

تنازع کو مزید پھیلنے نہیں دیں گے: امریکی سفیر

صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی سفیر نے بیروت کے مضافات میں اسرائیلی فضائی حملے اور اس کے جواب میں اسرائیل پر ایران کے حالیہ میزائل حملے کو ایک “سیاسی پیغام” قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے امریکہ میں یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اس تصادم اور علاقائی کشیدگی کو اب مزید پھیلنے نہیں دیا جائے گا۔

امریکی سفیر مشیل عیسیٰ نے عربی زبان میں میڈیا کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور وہ روزانہ کی بنیاد پر یہاں کی خبروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کے معاملے پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان سخت تلخی دیکھی گئی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کے حق میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکراتی کوششوں میں تیزی لانے کی کوشش کر رہا ہے۔