پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی رفتار 15 سال کی کم ترین سطح پرآگئی

قرضوں کے ڈھانچے میں اصلاحات، مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے قرضوں کے انتظام کو زیادہ پائیدار بنایا ہے

June 26, 2026 · اہم خبریں
پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی رفتار 15 سال کی کم ترین سطح پرآگئی

پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی رفتار 15 سال کی کم ترین سطح پرآگئی

پاکستان کے قرضوں میں اضافے کی رفتار گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مالیاتی اصلاحات کے باعث قرضوں کے بوجھ اور سودی اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے دوران مرکزی حکومت کے قرض میں صرف 5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 15 سال کی کم ترین شرح ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2023 میں قرضوں میں اضافے کی شرح 23 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے قرضوں کے ڈھانچے میں اصلاحات، مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے قرضوں کے انتظام کو زیادہ پائیدار بنایا ہے۔ ان کے مطابق قرض سے جی ڈی پی کا تناسب بھی گزشتہ چند برسوں میں کم ہو کر تقریباً 68 فیصد رہ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 4.7 ٹریلین روپے کے مہنگے قرضے قبل از وقت ریٹائر کیے، جبکہ سودی ادائیگیوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال میں سود کی مد میں اخراجات تقریباً 22 فیصد کم ہوئے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

خرم شہزاد نے مزید کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر، کرنٹ اکاؤنٹ اور دیگر معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، جبکہ مسلسل تین سال کے پرائمری مالیاتی سرپلس نے نئے قرضوں پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ قرضوں کے حجم سے زیادہ ان کی پائیداری، کم لاگت اور کم خطرے والے مالیاتی ڈھانچے پر مرکوز ہے، جس کے مثبت نتائج معاشی اشاریوں میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔