جاپانی وزیر اعظم کے نیند کے معمول نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر لی

حال ہی میں پانچ گھنٹے کی نیند لینا ان کے لیے غیر معمولی بات تھی، کیونکہ معمول کے مطابق انہیں اس سے بھی کم آرام کا موقع ملتا ہے۔

July 23, 2026 · بام دنیا

ٹوکیو: جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کی جانب سے روزانہ انتہائی کم نیند لینے کے انکشاف نے ملک میں کام کے دباؤ اور ورک کلچر سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے بتایا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سرکاری ذمہ داریوں، اہم دستاویزات کا جائزہ لینے، ای میلز کے جواب دینے اور دیگر امور کے باعث انہیں اکثر روزانہ صرف صفر سے تین گھنٹے تک نیند ملتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں پانچ گھنٹے کی نیند لینا ان کے لیے غیر معمولی بات تھی، کیونکہ معمول کے مطابق انہیں اس سے بھی کم آرام کا موقع ملتا ہے۔

وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین اور اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اتنی کم نیند کے ساتھ اہم قومی فیصلے کس حد تک مؤثر انداز میں کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی توجہ، یادداشت، فیصلہ سازی اور مجموعی جسمانی و ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر بالغ افراد کے لیے روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔

جاپانی وزیر اعظم کے بیان کے بعد ملک میں ورک کلچر، طویل اوقاتِ کار اور ذاتی زندگی کے توازن پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔