مشعال یوسفزئی کے پیچھے پورا گروہ ہے، سلمان اکرم راجہ پھٹ پڑے
بانی پی ٹی آئی سے متعلق تمام کیسز آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور اس حوالے سے کاز لسٹ بھی جاری کردی جائے گی۔
سلمان اکرم راجہ کا بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور معالجین سے ملاقات کا مطالبہ، مشال یوسفزئی سے متعلق اہم بیان بھی سامنے آگیا
اسلام آباد: تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں اور معالجین سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ان کی سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کے زیر سماعت مقدمات کو جلد مقرر کرنے اور ان کی بہنوں و معالجین سے ملاقات کا معاملہ اٹھایا گیا۔
ان کے مطابق رجسٹرار کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے متعلق تمام مقدمات آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور اس حوالے سے کاز لسٹ بھی جاری کی جائے گی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی معالجین سے تقریباً ڈیڑھ سال سے ملاقات نہیں ہوئی، جسے وہ نامناسب سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے معاملات کے پیش نظر معالجین سے ملاقات ضروری ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ سیاسی معاملات پر رائے دینا بانی پی ٹی آئی کا حق ہے، تاہم صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی کوشش ہوگی کہ وہ فی الحال سیاسی گفتگو سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ آئندہ ہفتے عدالت کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے مشال یوسفزئی سے متعلق پارٹی قیادت کی مبینہ ہدایت کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق عمران خان نے سلمان صفدر کے ذریعے مشال یوسفزئی کو پارٹی سے فارغ کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
سلمان اکرم راجہ کے بقول انہوں نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ مشال یوسفزئی کے ساتھ پارٹی میں ایک گروپ موجود ہے اور وہ اندرونی اختلافات یا نفاق کو مزید بڑھانا نہیں چاہتے تھے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کے اندر مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان مبینہ اختلافات اور الزامات پر بحث جاری ہے۔ مشال یوسفزئی کی جانب سے راجہ پر ٹکٹوں کے عوض رقم لینے، کنسلٹنسی فیس وصول کرنے اور گروپ بندی سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں سلمان اکرم راجہ مسترد کرچکے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی زندگی اور معاملات سب کے سامنے ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کے درمیان سامنے آنے والے ان بیانات کو تحریک انصاف کے اندر جاری اختلافات اور قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔