قائمہ کمیٹی نے آیت نور کیس کی ازسرنو تحقیقات کی ہدایت کردی

والدین سے کہا گیا پہلے خود کو میاں بیوی ثابت کرو، ایم این اے بابر نواز کی بریفنگ

September 7, 2026 · اہم خبریں
آیت نور والد کے ساتھ

آیت نور والد کے ساتھ

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں آیت نور کیس کے حوالے سے ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی ہدایت کردی۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم این اے بابر نواز نے انکشاف کیا کہ پولیس دو دن تک مقتولہ کے والدین کو میاں بیوی ثابت کرنے میں مصروف رہی اور ان سے کہا گیا کہ پہلے ثبوت لاؤ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایک خاتون ڈی ایس پی نے مقتولہ کی ماں سے انتہائی نازیبا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ تم 7 ماہ کی حاملہ نہ ہوتیں تو بتاتی کہ تم کیا ہو؟

ایم این اے بابر نواز نے کہا آیت نورکے والدین نے بتایا کہ وہ پہلے 2 دن پولیس کویہ ثابت کرتے رہےکہ وہ میاں بیوی ہیں، خاتون ڈی ایس پی ہری پور نےآیت نورکی والدہ کوکہا تم نے بچی کومارا ہے ، والد سے پولیس نے زبردستی 164 کا بیان لیا۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز  نے کہا آیت نورکی بازیابی کےلیے احتجاج ہوا تو معاملے کو کچھ سنجیدگی سے لیا گیا، آیت نورکی لاش 15 ویں دن ملی اور رپورٹ کے مطابق 7 دن پرانی تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچی ایک کنویں میں 5 دن زندہ پڑی رہی، لاش ملنے کے بعد گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا فوری پہنچ گئے۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے بریفنگ میں بتایا کہ 15 دن بعد 3 بچوں کو گرفتارکیا گیا، جن 3 ملزمان کوپولیس نے آیت نورکیس میں گرفتارکیا کچھ پتا نہیں وہ کیسے نامزد ہیں؟ 11 سال کا جو بچہ آیت نورکوگھر سے لےکر نکلا اس نے کب یہ کہا 3 لڑکے تھے جن کے حوالے کیا؟ بابر نواز نے کمیٹی کو بتایاکہ کیس کی وہی افسران تحقیق کررہے ہیں جو غفلت کے مرتکب ہوئے، اب تک کی پولیس رپورٹ ردی کے ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہے، بچوں میں کسی کے پاس موبائل نہیں تھا اورپولیس کہتی ہے جیوفینسنگ سے گرفتاریاں کیں۔

رکن کمیٹی شمشیر علی مزاری نے کہا کیس میں پولیس کی کوتاہی پربھی مکمل تحقیقات ہونی لازمی ہیں۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ پولیس کی غفلت اور مس ہینڈلنگ کی وجہ سے یہ کیس خراب ہوا اور اس سلسلے میں ذمہ دار اعلیٰ افسران کو کم از کم معطل کیا جانا چاہیے تھا۔

اجلاس کے دوران یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ ایک 4 سالہ بچی کنویں کے اندر 4 دن تک کیسے زندہ رہی۔

قائمہ کمیٹی نے پولیس کی اب تک کی کارروائی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ایک نئی اور آزاد انویسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے کیس کی نئے سرے سے شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے

یاد رہے کہ آیت نور کے والدین کو ہراساں کرنے اور ان سے نازیبا سوالات پر امت نے کچھ دن قبل رپورٹ شائع کی تھی۔