فراڈ کے الزامات: شیخ حسینہ کی بیٹی عالمی ادارہ صحت سے مستعفی

عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی نے ایک روز قبل صائمہ واجدکی برطرفی کی سفارش کی تھی۔

September 10, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی اور عالمی ادارہ صحت کی جنوب مشرقی ایشیا کی سربراہ صائمہ واجد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق صائمہ واجد نے اقوام متحدہ کی ایجنسی اور بنگلادیشی حکام کی جانب سے فراڈ کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد بدھ کے روز استعفیٰ دیا۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ادارے کی ایک کمیٹی نے صائمہ واجد کے استعفے سے ایک روز قبل ہی انہیں عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کردی تھی۔

صائمہ واجد نے 2024 میں پانچ سالہ مدت کے لیے یہ عہدہ سنبھالا تھا، تاہم گزشتہ سال کے اواخر میں انہیں بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔

اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی انہیں اس وقت رخصت پر بھیجا گیا تھا جب بنگلادیش کی عبوری حکومت کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے ان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کے الزامات عائد کیے تھے۔

عالمی ادارہ صحت نے صائمہ واجد پر چین کے سفر کے حوالے سے مالیاتی فراڈ اور اپنی تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، تاہم صائمہ واجد نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت نے ان پر بنگلادیش میں غیر قانونی طور پر زمین حاصل کرنے کا بھی الزام لگایا تھا۔

صائمہ واجد نے عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے یہ زمین عالمی ادارہ صحت میں شمولیت سے قبل حاصل کی تھی اور وہ بنگلادیشی قانون کے تحت اس کی قانونی حقدار تھیں، جو شیخ حسینہ کے والد اور ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمان کے خاندان کو مراعات فراہم کرتا ہے۔