مودی کی ناکام پالیسیوں سے بھارتی اسٹاک مارکیٹ کو بڑا دھچکا
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے
فائل فوٹو
مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے دعووں کے برعکس بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری 17 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کی بھارت میں دلچسپی اور اعتماد میں نمایاں کمی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی جریدے بلوم برگ کے مطابق بھارتی شیئرز میں عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی مسلسل کم ہورہی ہے اور متعدد غیر ملکی اداروں نے بھارتی کمپنیوں میں اپنی سرمایہ کاری محدود کردی ہے، جبکہ بعض سرمایہ کاروں نے اپنی سرمایہ کاری مکمل طور پر ختم کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی کمپنیوں کی جانب سے بھارتی مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کی ایک اہم وجہ سرمایہ کاری پر کم منافع ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت میں محدود مواقع بھی عالمی سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کی ایک وجہ قرار دی جارہی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے باعث بھارتی اسٹاک ایکسچینج میں عالمی سرمایہ کاری 17 سال کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ بینک آف امریکہ کے ایک حالیہ سروے میں بھی بھارت کو ایشیا کی کم پسندیدہ مارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سرمایہ کاری میں کمی بھارتی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ سرمایہ کاروں کا بدلتا ہوا رجحان مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بھارت میں کاروباری ماحول سے متعلق بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے معاشی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافے کے دعووں کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے ان دعوؤں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ صورتحال بھارتی معیشت کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔