شام کے سابق جیل افسر کو امریکا میں 60 سال قید کی سزا

74 سالہ سمیر الشیخ 2005 سے 2008 کے دوران دمشق کے قریب عدرا جیل کا سربراہ رہا

September 18, 2026 · بام دنیا
شام کے سابق جیل افسر کو امریکا میں 60 سال قید کی سزا

شام کے سابق جیل افسر کو امریکا میں 60 سال قید کی سزا

لاس اینجلس: امریکی وفاقی عدالت نے شام کے سابق جیل افسر سمیر عثمان الشیخ کو قیدیوں پر تشدد اور امریکی امیگریشن حکام سے غلط بیانی کے مقدمے میں 60 سال قید کی سزا سنا دی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 74 سالہ سمیر الشیخ 2005 سے 2008 کے دوران دمشق کے قریب عدرا جیل کا سربراہ رہا، جہاں اس پر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے احکامات دینے اور بعض واقعات میں خود تشدد میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا۔

عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق عدرا جیل کے ونگ 13 میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ استغاثہ کے مطابق سمیر الشیخ نے سیاسی مخالفت کو دبانے کیلئے قیدیوں کے خلاف جسمانی اور ذہنی تشدد کی ہدایات دیں۔

وفاقی جیوری نے مارچ 2026 میں اسے تشدد کی سازش، تشدد کے تین الزامات، ویزا فراڈ اور امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش میں فراڈ سمیت چھ الزامات میں مجرم قرار دیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق سمیر الشیخ 2020 میں امریکا پہنچا اور اپنی سابقہ سرگرمیوں سے متعلق معلومات چھپا کر گرین کارڈ حاصل کرنے اور بعد ازاں امریکی شہریت کیلئے درخواست دینے کی کوشش کی۔ اسے جولائی 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا

امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ سمیر الشیخ بشار الاسد حکومت کا اب تک کا اعلیٰ ترین سابق عہدیدار ہے جس کے خلاف شام سے باہر رہتے ہوئے مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزا سنائی گئی۔

عدالت نے یہ سزا 17 ستمبر 2026 کو لاس اینجلس میں سنائی۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق مقدمے کے دوران متاثرہ افراد نے عدرا جیل میں اپنے ساتھ ہونے والے تشدد اور دیگر قیدیوں پر تشدد کے واقعات کے بارے میں گواہی بھی دی