قندھار پر فضائی حملے کے بعد علاقے میں آگ کے شعلے بلند
طالبان کا دعویٰ،پاکستان نےڈرونز کے لیے استعمال ہونے والے 10 مقامات کو نشانہ بنانے کا کہا
افغانستان کے شہر قندھار میں فضائی حملے کے بعد علاقے سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہے
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فضائیہ اور ڈرونز کے ذریعے افغانستان میں 10 ایسے مقامات پر انتہائی درست حملے کیے گئے جو ڈرونز داغنے اور انھیں ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
پاکستان کی جانب سے ان مقامات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، تاہم جمعرات کی صبح اس اعلان کے بعد افغانستان کے طلوع نیوز نے خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گربز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے حملے رات تقریباً ساڑھے تین بجے ہوئے۔ ان کے مطابق ضلع گربز کے علاقے کمپ گلان کے علاوہ ضلع اسماعیل خیل اور مندوزی کے بعض علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ حملوں میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ شب صوبہ قندھار، پکتیا اور خوست میں فضائی حملے کیے، جن میں چار افغان شہری ہلاک ہوئے۔
عالمی میڈیانے بتایاہے کہ قندھار میں پاکستانی حملے کے بعد آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں افغان ترجمان نے پاکستانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان حکومت ان حملوں کو ’’بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی، کھلی جارحیت اور ایک جرم‘‘ سمجھتی ہے۔
ان کے بقول افغان حکومت عوام کو یقین دلاتی ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی ان کارروائیوں کا ’’مناسب جواب‘‘ دیا جائے گا۔انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے ’’غیر محتاط اور دشمنی پر مبنی اقدامات‘‘ افغان عوام میں غم و غصہ پیدا کریں گے اور ان کے پاکستان کی فوج کے لیے ’’سخت نتائج‘‘ ہو سکتے ہیں۔