معاشی استحکام کیلئے امن اور سیاسی انتشار کا خاتمہ ناگزیر ہے: احسن اقبال
اہم بیانات، پی ٹی آئی انتشار کی سیاست کر رہی ہے، مسلم لیگ ن، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہوگا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے امن اور سیاسی استحکام اولین شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک کے اندر بدامنی، سیاسی بے یقینی، سیاسی انتشار اور سڑکوں کے اوپر غل غپاڑہ ہو، وہاں کون سا بیرونی سرمایہ کار ہے جو 1 ڈالر کی بھی سرمایہ کاری کرے گا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں پاکستان اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے انہیں یونیورسٹیوں سے گھسیٹ کر سڑکوں پر نہیں لانا، بلکہ کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں جدید ہنر دینے ہیں تاکہ نوجوان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں اپنے لیے اور ملک کے لیے نیا مستقبل تعمیر کرسکیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ دو مختلف طرز سیاست کی جنگ ہے، جہاں ایک طرف ترقی کا نظریہ ہے تو دوسری طرف تشدد اور نفرت کا نظریہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں سے امن اور استحکام کا خطے میں جزیرہ ہے، جبکہ ہمارا دشمن یہ چاہتا ہے کہ ہمارے امن اور استحکام کو انتشار میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کسی سیاسی قیدی کے طور پر بند نہیں ہیں بلکہ انہیں عدالت نے ایک مقدمے میں سزا دی ہے جس میں 190 ملین پاؤنڈ، جو تقریباً 60 ارب روپے بنتے ہیں، کا معاملہ شامل ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں ثمر ہارون بلور، زاہد خان اور مرتضیٰ عباسی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کی۔ لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سیاست نے خیبرپختونخوا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائیخدشات کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا ہدف صرف انتشار پھیلانا اور صوبائی وسائل کا بے دریغ استعمال کرنا ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ تمام تنازعات کو آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر حل کیا جائے اور ملک کو مزید کسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار نہ کیا جائے۔