راولپنڈی کے فیض آباد میں ہوٹلز کھولنے کی اجازت، لوکل ٹرانسپورٹ بحال

معمولاتِ زندگی بحال، انتظامیہ نے اجازت دے دی، کاروباری سرگرمیاں شروع۔

September 26, 2026 · اہم خبریں
فیض آباد اور گردونواح میں سیکیورٹی انتظامات اور بحال ہونے والی ٹریفک کا منظر

فیض آباد اور گردونواح میں سیکیورٹی انتظامات اور بحال ہونے والی ٹریفک کا منظر

راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں سیکیورٹی اقدامات کے تحت کئی روز سے بند ہوٹلز کھولنے کی باضابطہ اجازت دے دی گئی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تھانہ نیو ٹاؤن کی حدود میں واقع ہوٹلز کو 2 اکتوبر تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد علاقے میں کاروباری سرگرمیاں بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

مری روڈ فیض آباد میں پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات بدستور برقرار ہیں اور بعض مقامات پر کنٹینرز تاحال موجود ہیں، تاہم تمام راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں اور آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ فیض آباد کے بس اڈے بھی کھلے رہے، جب کہ میٹرو بس سروس کے ساتھ گرین بس اور بلیو بس سروس بھی مکمل طور پر بحال رہی۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے تعلیمی ادارے بھی معمول کے مطابق کھلے رہے۔

دوسری جانب ملک کے مختلف حصوں بالخصوص جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ کو روکنے کے لیے شہر اقتدار سمیت مختلف مقامات پر کنٹینرز کی بڑی تعداد پہنچا دی گئی ہے اور اسلام آباد کو خیبرپختونخوا سے ملانے والا پہاڑی راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ مارگلہ کے پہاڑوں سے اترنے والی پگڈنڈیوں پر بھی پولیس نفری تعینات کرنے کا پلان تشکیل دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق این فائیو اٹک خورد پل پر کنٹینرز کے بعد سڑک پر ویلڈ شدہ نوک دار کیلوں کی بڑی پلیٹوں کی تنصیب بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے، جب کہ اٹک میں 30000 سے زائد پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا نے موٹروے ایم ون، پتھر گڑھ کٹی پہاڑی اور غازی بروتھا سمیت مختلف سیلنگ اور بلاکنگ پوائنٹس کا دورہ کر کے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔