خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا عندیہ، پی ٹی آئی نے لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا
اہم پیش رفت، سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا، حکومت پر شدید تنقید۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پشاور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے دوران گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے باضابطہ مشاورت ہو چکی ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کرپشن، لاقانونیت اور دہشت گردی عروج پر ہے اور آئین کے تحت گورنر راج لگانا کوئی غیر قانونی اقدام نہیں ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنا مجوزہ لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تفصیلی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ فی الحال مارچ کو مؤخر کیا جا رہا ہے جبکہ پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ کا لائحہ عمل جلد جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پشاور میں منعقدہ 3 گھنٹے طویل مشاورتی اجلاس میں ارکان کی اکثریت نے مارچ کو موخر کرنے کی تجویز دی تھی جبکہ پارٹی اس دوران دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی کر رہی ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبہ دہشت گردوں کے حوالے کیا جاچکا ہے اور پولیس فورس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں سب سے کم ہیں اور حکومت انہیں مراعات دینے کے بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
دریں اثنا، مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ دراصل چندہ اکٹھا کرنے کی مہم تھا جسے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت امن و امان بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور صوبے میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔