سعودی وزیر خارجہ کا حوثی اقدامات مسترد کرنے کا مطالبہ، ایرانی ہم منصب سے ملاقات
عالمی برادری توجہ دے، آبنائے ہرمز کی حفاظت ضروری ہے، نیویارک میں اہم بیٹھک ہوئی۔
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کے اقدامات کو سختی سے مسترد کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور سعودی عرب آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی اور سلامتی پر مکمل زور دیتا ہے۔ آبی گزرگاہوں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کو ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی سلامتی کا براہ راست تعلق توانائی اور سپلائی چین کے تسلسل سے ہے۔ فلسطینی عوام کو بے گھر کرنے کی تمام کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کیا جائے۔
دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مصافحہ کیا اور باہمی तथा علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور خطے کو متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔