جعلی سرٹیفکیٹس پر نرسز کو سعودی عرب بھجوانے کا اسکینڈل، دو ملزمان کو قید اور جرمانہ

اہم فیصلہ، عدالت نے جرم ثابت کر دیا، مجموعی طور پر 41 سال قید کی سزا سنائی گئی، 92 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا گیا، تمام متاثرہ خواتین کو ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے 92 خواتین کو جعلی نرسیں ظاہر کیا تھا۔

September 26, 2026 · اہم خبریں
اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے راولپنڈی کی عدالت کا داخلی منظر جہاں جعلی نرسز اسکینڈل کا فیصلہ سنایا گیا۔

اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے راولپنڈی کی عدالت کا داخلی منظر جہاں جعلی نرسز اسکینڈل کا فیصلہ سنایا گیا۔

راولپنڈی میں اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے کے عدالت نے جعلی سرٹیفکیٹس پر نرسز کو سعودی عرب بھجوانے کے سنگین اسکینڈل کا فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمان کو مجموعی طور پر 41 سال قید اور 92 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے معزز جج عبدالرحمان نے اس اہم مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔

دستاویز کے مطابق ایف آئی اے نے سن 2024 میں اس مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا تھا۔ دورانِ تفتیش یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزمان نے عام خواتین کو نرسیں ظاہر کر کے سعودی عرب روانہ کیا تھا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے اسناد کی جانچ پڑتال کے دوران ان جعلی سرٹیفکیٹس کا پول کھل گیا۔

عدالت میں ثابت ہوا کہ ملزمان ذوالفقار عرف میاں اور غلام فرید اس انسانی اسمگلنگ اور جعل سازی کے گھناؤنے فعل میں براہِ راست ملوث تھے۔ جرم ثابت ہونے پر عدالت نے دونوں مجرموں کو کڑی سزائیں سناتے ہوئے مجموعی طور پر 92 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ یاد رہے کہ سعودی حکومت نے تمام متعلقہ جعلی نرسوں کو ڈی پورٹ کر کے واپس پاکستان بھیج دیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔